پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینیٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں وزیراعلیٰ کا انتخاب آئین کے مطابق چند لمحوں میں مکمل ہو جائے گا، اور اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی رکاوٹ کو قانونی طور پر روکا جائے گا۔
پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’’ایک آدھے گھنٹے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتخاب ہو جائے گا۔ اگر اپوزیشن عدالت میں کوئی درخواست دائر کرتی ہے تو میں خود اس میں پیش ہوں گا۔ ہم انتخاب کو کسی صورت رکنے نہیں دیں گے۔‘‘
سینیٹر علی ظفر نے آئینی نکتہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئین کے مطابق وزیراعلیٰ جب استعفیٰ دے دیتے ہیں تو وہ مستعفی ہو جاتے ہیں، یہ ضروری نہیں کہ گورنر اس استعفیٰ کو منظور کرے۔‘‘انہوں نے واضح کیا کہ گورنر کی منظوری صرف رسمی عمل ہے، جو آئینی طور پر استعفے کی قانونی حیثیت کو متاثر نہیں کرتی۔
تاہم، اس معاملے پر خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈاپور کے استعفے پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔ گورنر کے مطابق، علی امین گنڈاپور کے نام سے دو متضاد استعفے موصول ہوئے، جن پر دستخط بھی مختلف اور غیر مشابہ ہیں۔ اسی بنیاد پر گورنر نے استعفیٰ واپس کر دیا ہے اور معاملے کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ گورنر کے اعتراضات غیر آئینی ہیں اور سیاسی مداخلت کے مترادف ہیں، جبکہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب موجودہ صورتحال میں قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو چکا ہے۔
صورتحال مزید سیاسی اور قانونی کشیدگی کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، اور ممکن ہے کہ معاملہ عدالت تک جا پہنچے۔





