خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللّٰہ نے صوبائی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک موجودہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور نہیں ہوتا، اُس وقت تک کسی دوسرے شخص کو وزیراعلیٰ منتخب کرنا آئینی طور پر ممکن نہیں۔
اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عباداللّٰہ نے کہا کہ ’’ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے کا انتخاب نہیں ہو سکتا، یہ عمل غیر قانونی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے دو بار استعفیٰ دیا، لیکن آئینی طور پر استعفیٰ کی منظوری اور کابینہ سے ڈی نوٹیفیکیشن کے بغیر نیا انتخاب نہیں ہو سکتا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن اس ’’غیر آئینی اقدام‘‘ کا حصہ نہیں بنے گی اور اجلاس سے واک آؤٹ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو جلد بازی کی ضرورت نہیں، وزیراعلیٰ کا انتخاب چند دن بعد بھی ممکن ہے۔
اسمبلی میں ماحول اس وقت کشیدہ ہو گیا جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نعرے بازی کی۔ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے مداخلت کرتے ہوئے ایوان کو نظم و ضبط کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا’’خاموشی اختیار کریں، مجھے مجبور نہ کریں کہ سب کو ایوان سے نکال دوں، ہر رکن کو بولنے کا حق ہے۔‘‘اسپیکر نے مزید کہا کہ چند افراد کی خواہش پر آئین کو نہیں بدلا جا سکتا۔ ’’آئین لوگوں کی خواہشات کے مطابق نہیں، بلکہ قانون کے مطابق چلتا ہے، اور اسمبلی اسی اصول پر کاربند ہے۔‘‘
ڈاکٹر عباداللّٰہ کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور نے اپنی کارکردگی کا دفاع کیا، اور ان کی نظر میں وہ اب بھی وزیراعلیٰ ہیں۔’’اگر ان کی کارکردگی واقعی بہتر تھی، تو پھر انہیں ہٹانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایوان میں موجود پی ٹی آئی کے کارکن پارٹی ورکرز ہیں، انہیں اسمبلی سے باہر نہ نکالا جائے۔





