سلمان یوسفزئی
خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے باعث ایک اور مریض زندگی کی بازی ہار گیاجس کے بعد رواں سال صوبے میں اس وبا سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد دو ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق متوفی کا تعلق مردان سے تھا۔
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں ڈینگی کے 100 سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق صوبے میں اب تک 3362 ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے 3117 مریض صحتیاب ہو چکے ہیںجبکہ 243 مریض اس وقت زیرِ علاج ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل خیبرپختونخوا کے ضلع مردان میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ پہلا مریض انتقال کر گئے تھے۔
محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق شریف آباد کا رہائشی 30 سالہ عدنان 30 ستمبر کو ڈینگی وائرس کا شکار ہوا تھا۔
عدنان کو بخار، جسم درد اور آنکھوں میں شدید درد کی شکایت کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا ٹیسٹ میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی اور پلیٹ لیٹس کی تعداد 45 ہزار پائی گئی تھی۔
متاثرہ شخص مردان میڈیکل کمپلیکس میں داخل کیا گیا لیکن طبیعت میں بہتری محسوس ہونے پر اس نے ڈاکٹروں کے مشورے کے برخلاف ہسپتال سے ڈسچارج لے لیاتھا۔حالت بگڑنے پر اسے دوبارہ ہسپتال لایا گیا مگر پلیٹ لیٹس کی تعداد مزید کم ہونے اور ڈینگی شاک سنڈروم کے باعث 4 اکتوبر کو وہ جاں بحق ہوگئے تھے۔
یہ پڑھیں : پشاور :سفید ڈھیری میں چکن گونیا کی وبا، 16 کیسز کی تصدیق، محکمہ صحت نے کنٹرول روم قائم کردیا
پشاور کے علاقے سفید ڈھیری میں چکن گونیا وائرس کے 16 کیسز کی تصدیق کے بعد محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے علاقے کو آؤٹ بریک زون قرار دے دیا ہے اور فوری ردعمل کے طور پر متعدد اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
سیکرٹری ہیلتھ شاہداللہ خان کے مطابق چند روز قبل سفید ڈھیری میں بخار کی علامات والے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جس پر ٹیم نے موقع پر پہنچ کر 21 افراد کے نمونے حاصل کیے اور انہیں پبلک ہیلتھ ریفرنس لیب خیبرپختونخوا تجزیے کیلئےبھجوایا گیا۔ تجزیے کے بعد 16 افراد میں چکن گونیا کی تصدیق ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس بابت ڈی ایچ او پشاور کو ایڈوائزری جاری کی جاچکی ہے تاکہ بروقت اقدامات سے بیماری کا سدباب ممکن ہو۔
محکمہ صحت سے جاری ہونے والی ایڈوائزری کے مطابق محکمہ صحت پشاور نے فوری طور پر آؤٹ بریک کے انسداد کیلئے اقدامات کی ہدایت کردی ہے۔
ہدایات کے مطابق ڈی ایچ او آفس پشاور میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے تاکہ صورتحال کی نگرانی اور رابطہ کاری مؤثر انداز میں کی جا سکے جبکہ ایپیڈیمیولوجیکل انویسٹی گیشن کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کی وجوہات اور ذرائع کی نشاندہی کی جا سکے۔





