کبھی حلف لینے سے انکار نہیں کیا،آئین کے تقاضے پورے کے جائیں گے،فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ میں نےکبھی حلف لینے سے انکار نہیں کیا، آئین کے تقاضے پورے کے جائیں گے اور میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ قانون اور آئین پر عملدرآمد کریں گے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ میرا جواب ہائیکورٹ میں جمع ہوچکا ہے، میں آج رات ہر صورت میں پشاور پہنچ جاؤں گا اور میرا جو آئینی فرض ہے، وہ ادا کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر کے پاس طیارہ نہیں ہوتا، وزیر اعلی سندھ سے درخواست کی ہے، وہ اپنا طیارہ فراہم کریں گے۔

قبل ازیں ایک تقریب میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تقریر کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی کو فوری طور پر خیبرپختونخوا پہنچے کی ہدایت کردی ۔

بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ گورنر صاحب آپ خیبرپختونخوا پہنچنا چاہیئے۔

انہوں نے کہاکہ میں وزیراعلی سندھ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنا جہاز گورنرخیبرپختونخوا کو دے دیں تاکہ فیصل کریم کنڈی خیبرپختونخوا پہنچ کرآئین اور قانون کے مطابق اپنی زمہ داری پور ی کریں اور جو بھی عدالت کاحکم ہوگا اس پر عمل درآمد کریں ۔

واضح رہے کہ آج پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے نئے وزیرِاعلیٰ کی حلف برداری سے متعلق پاکستان تحریکِ انصاف کی آئینی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

عدالت نےگورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کل 4 بجے تک حلف لینے کا حکم دے دیا۔

فیصلے میں مذید کہا گیا ہے کہ اگر گورنر نے حلف نہیں لیا تو اسی دن اسپیکرنو منتخب وزیراعلی سے حلف لیں ۔

اس سے قبل خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری سے متعلق درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی جس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گورنر خیبرپختونخوا سرکاری دورے پر ہیں اور وہ کل دوپہر 2 بجےکے پی واپس آئیں گے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ گورنر نے حلف برداری کے حوالے سے کیا موقف اپنایا ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گورنر نے علی امین گنڈاپور کو استعفے کی منظوری کے لیے طلب کیا ہے۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ چونکہ صوبے میں انتخابات ہو چکے ہیں، اس لیے پرانا وزیراعلیٰ دفتر نہیں چلا سکتا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ آیا گورنر نے حلف لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے یا نہیں، جس پر جواب ملا کہ گورنر کی کے پی واپسی کے بعد ہی کوئی فیصلہ ممکن ہوگا۔

گورنر کے مقرر کردہ وکیل عامر جاوید ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گورنر کل واپس آ جائیں گے، اور امید ہے کہ وہ تب تک استعفیٰ منظور کرکے حلف بھی لے لیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر اتنی جلدی ہے تو حکومت اپنا جہاز بھیج کر گورنر کو واپس لا سکتی ہے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ گورنر عام طور پر پبلک فلائٹس سے سفر کرتے ہیں۔سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Scroll to Top