اعجاز آفریدی
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے زمین کے ریکارڈ میں غفلت ،چھیڑ چھاڑ ی یا سرکاری ریکارڈ میں غیر مجاز تبدیلی کے خلاف سخت کارروائی عندیہ دے دیاہے اور واضح کیا ہے کہ ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو زمین کی ریکارڈ میں چھیڑ چھاڑ یا غیر مجاز تبدیلی کرے ۔
اس سلسلے میں خیبر پختونخوا کے محکمہ ریونیو اینڈ اسٹیٹ کے ڈائریکٹوریٹ آف لینڈ ریکارڈز نے زمین کے ریکارڈ کی حفاظت اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیٹلمنٹ افسران کو ہدایات جاری کی ہیں۔
ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ قیمتی لینڈ ریکارڈ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں اور ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
سرکلر میں ہدایت کی گئی ہے کہ ہر ریونیو افسر اور عملے کے لیے واضح ذمہ داریاں متعین کی جائیں تاکہ سیٹلمنٹ ریکارڈ کی سکیورٹی اور حفاظت برقرار رہے۔ تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ تکمیل گار مراکز میں 24 گھنٹے کی ڈیوٹی کا نظام قائم کیا جائے اور ریونیو افسران کی جانب سے باقاعدہ چیکنگ کی جائے، جبکہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر کے موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔
سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ افسران ہر ماہ کم از کم ایک مرتبہ تکمیل گار کا دورہ کریں اور وہاں کے ریکارڈ، سٹوریج اور دیگر انتظامات کی رپورٹ چیف سیٹلمنٹ آفس کو ارسال کریں۔
ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ضلعی پولیس افسر کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر اضافی سکیورٹی انتظامات کیے جا سکیں۔
محکمے نے واضح کیا ہے کہ ریکارڈ کی مناسب دیکھ بھال کے لیے وینٹیلیشن، فائر ایکسٹینگشرز، نمی اور کیڑوں کے کنٹرول کے اقدامات، اور ریکارڈ کو دھات یا اونچی الماریوں میں محفوظ رکھنے کے انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ اس کے علاوہ، ہر ریکارڈ روم میں انٹری اور ایگزٹ رجسٹر رکھا جائے تاکہ بغیر اجازت کوئی ریکارڈ باہر نہ لے جایا جا سکے۔
افسران کو متنبہ کیا گیا ہے کہ زمین کے ریکارڈ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت، چھیڑ چھاڑ یا غیر مجاز تصرف پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آگ، سیلاب یا چوری کی صورت میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی پلان تیار کیا جائے اور ذمہ دار افسران کے رابطہ نمبرز نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں۔





