پشاور: خیبرپختونخوا کی سابق کابینہ کے بیشتر اراکین اسمبلی کے حصے میں اب بھی متعدد سرکاری گاڑیاں ہیں، جنہیں انہوں نے ابھی تک واپس نہیں کیا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق وزراء میں سے 11 ارکان نے اب تک ایک گاڑی بھی واپس نہیں کی۔
تفصیلات کے مطابق ایک سابق صوبائی وزیر کے پاس آٹھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جبکہ دوسرے کی ملکیت میں پانچ گاڑیاں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ تین سابق وزراء کے پاس ہر ایک تین تین سرکاری گاڑیاں ہیں۔ یہ گاڑیاں رسمی طور پر متعلقہ محکموں کو واپس ہونی چاہئیں تھیں۔
نجی ٹی وی ذرائع نے مزید بتایا کہ بعض سابق وزراء نے ان گاڑیوں کی مرمت اور مینٹیننس پر اپنی جیب سے لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں۔
تاہم چند وزراء کا موقف ہے کہ وہ نئی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کے منتظر ہیں، اسی وجہ سے انہوں نے گاڑیاں ابھی تک واپس نہیں کیں تاکہ وزارت ملنے پر وہ وہی گاڑیاں دوبارہ استعمال کر سکیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سابق وزراء کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر سرکاری گاڑیاں واپس کریں، مگر ابھی تک بیشتر نے اس ہدایت پر عمل نہیں کیا۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دینے کے فوراً بعد تمام سرکاری گاڑیاں واپس کر دی تھیں۔
ذرائع کے مطابق سابق صوبائی وزیر فخر جہاں بھی وہ افراد ہیں جنہوں نے گاڑیاں واپس کرنے والوں کی فہرست میں اپنی نام درج کروا لیے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ چند روز قبل وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کی پولیس کو فراہم کی گئی بلٹ پروف گاڑیوں کو بھی ناقص قرار دے کر فوری واپس کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
اسی پس منظر میں سابق وزراء کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کی عدم واپسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جنہیں صوبائی انتظامیہ نے خامیوں کا باعث قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گنڈا پور حکومت کے سابق وزرا ءکا تاحال سرکاری گاڑیاں اور رہائش گاہیں استعمال کرنے کا انکشاف
خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صوبائی وزرا ءتاحال سرکاری گاڑیاں استعمال کررہے ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اپوزیشن لیڈرڈاکٹر عباداللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے بعد کابینہ تشکیل نہیں دی گئی تاہم سابق وزراء آج بھی اسمبلی سرکاری گاڑیوں میں آرہے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب بھی سابق وزراء سرکاری گھروں میں رہائش اختیار نہیں کیے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر عباد کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک ماہ تک صوبے میں امن و امان پر بحث کی، جس کے بعد ایوان کی ایک کمیٹی بنی وزیراعلی اس کے رکن ہیں اس کا اجلاس بلایا جائے، ایوان کمیٹی کا فوری اجلاس بلایا جائے اور عسکری حکام کو بھی بلایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تبدیلی ہونی چاہیے لیکن تبدیلی اچھے کے لیے ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر عباد نے تقریر میں کہا کہ ہم اسرائیل کو سپورٹ نہیں کرتے، آج ایوان میں اسرائیل کی قرارداد میں سیاسی معاملات کو بھی چھیڑا گیا، دلیل سے بات ہوتی ہو گالم گوچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پر پہلی بار پابندی تحریک انصاف کے دور میں لگی اس وقت کے وزیراعظم نے کہا کہ ریاست سے کوئی ٹکراو نہ کرے، اس حوالے سے بانی چیئرمین کی تقاریر سنیں آپ لاجواب ہوجائیں گے۔
خیبرپختونخواہ اسمبلی نے وزیراعلی سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانےکی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔





