پاکستان اور افغانستان کے درمیان پاک افغان عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں مکمل ہوگیا۔
مذاکرات تین دن جاری رہنے کا امکان تھا اور اس میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مکینزم پر بھی بات چیت کی گئی۔
ترکی میں مذاکرات کے دو دور ہوئے جن میں دونوں جانب سے دوحا معاہدے کے بعد پیشرفت سے متعلق ڈوزئیرز کا تبادلہ کیا گیا۔
پاکستان کی جانب سے ڈی جی ایم او اور ڈپٹی ڈی جی ایم او جبکہ افغانستان کی طرف سے نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ مجیب نے وفد کی قیادت کی۔
اس سے پہلے 19 اکتوبر کو دوحہ مذاکرات میں وزیردفاع خواجہ آصف اور افغان ہم منصب ملا یعقوب شریک ہوئے تھے جس میں فوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کے لیے دوٹوک پیغام دیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کھلی جنگ ہوگی، انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی اور بھارت افغانوں کے ذریعے پراکسی جنگ لڑ رہا ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا اب مہمان نوازی نہیں، قانون کی حکمرانی ہوگی گزشتہ چار پانچ روز میں سرحدی علاقوں میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔ ہم نے 40 سال افغانوں کی مہمان نوازی کی، اب جو بھی پاکستان آئے گا ویزے کے ذریعے ہی آئے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہیں اور ہر دوسرے دن شہدا کے جنازے پڑھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دوحہ: پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل
ہمارے سکیورٹی فورسز سرحدوں پر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، قبائلی علاقوں میں بہادر لوگ ملکی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور بھارت کے خلاف ایک جنگ بھی لڑ چکے ہیں۔
یہ مذاکرات پاک افغان تعلقات میں امن کی جانب ایک اہم قدم سمجھے جا رہے ہیں اور دونوں ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے امکانات مضبوط ہو رہے ہیں





