اسلام آباد: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت کا گیس کنکشنز کی بحالی کا فیصلہ درست نہیں، دو مختلف اقسام کے کنکشنز اور نرخ رکھنا اصولی طور پر غلط ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گیس پالیسی میں امتیازی رویہ ناقابلِ قبول ہے، حکومت کو توانائی کے شعبے میں شفاف اور مستقل لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں، جو پاکستان پر حملہ کرے گا اس کا بھرپور جواب دینا ہوگا۔
تاہم، افغانستان کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر انہوں نے زور دیا کہ دو مسلمان ممالک کے درمیان جنگ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تحریکِ طالبان پاکستان افغانستان سے کارروائیاں کر رہی ہے، اس لیے کابل حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ڈپلومیٹک اور باہمی اعتماد کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر بھروسہ پیدا کرنا ہوگا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہییں، بیرونی مدد پر انحصار پائیدار نہیں۔ الزام تراشیوں کے بجائے تعاون کی فضا قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سرحدی پالیسی وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے، صوبائی حکومتوں کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں : مسلح افواج پر فخر ہے، ملکی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، عطا تارڑ
انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کو پی ٹی آئی رہنماؤں اور بانی تحریک انصاف کے درمیان ملاقاتوں میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔
ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف وفاق اور صوبوں کو ایک صف پر ہونا ضروری ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات شخصیات نہیں بلکہ اصولوں اور باہمی مفادات کی بنیاد پر استوار کیے جاتے ہیں، صرف تعریفوں سے ملک نہیں چلتے۔





