پشاور میں صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی اور معاونِ خصوصی شفیع جان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔
مینا خان آفریدی نے کہا کہ اختیار ولی نے کل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر جھوٹے الزامات عائد کیے، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام حربے ناکام ہوچکے ہیں اور سہیل آفریدی بطور وزیراعلیٰ اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو سہیل آفریدی پشاور میں موجود تھے، مگر ان کے خلاف ایک من گھڑت بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر کے مطابق کابینہ کے پہلے اجلاس میں ریڈیو پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی منظوری دی جائے گی تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔
معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ جعلی کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے ایک جعلی ویڈیو ٹی وی پر چلائی، جس کے ذریعے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری نشستیں چھینی گئیں، مگر اب سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ اُن لوگوں سے ہضم نہیں ہو رہی۔
شفیق جان نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کا بانیِ پی ٹی آئی سے کسی قسم کا رابطہ یا ملاقات نہیں ہو رہی، اور جو ویڈیو کل چلائی گئی وہ مارچ کی ہے۔
اس موقع پر مینا خان آفریدی نے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ تحریک انصاف کے لیے ایک منصوبہ بند جال (ٹریپ) تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بانیِ پی ٹی آئی سے آئندہ ملاقات کے بعد کابینہ میں مزید وزراء شامل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
دونوں رہنماؤں نے میڈیا پر زور دیا کہ حقائق کی درست رپورٹنگ کی جائے اور عوام کو گمراہ کن پروپیگنڈے سے بچایا جائے۔





