مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) میں نومولود بچے کو اغواء کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی اور مبینہ خاتون اغواء کار کو گرفتار کر کے بچے کو بازیاب کرا لیا گیا۔
ایم ایم سی کے لیبر روم میں نومولود کی پیدائش کے بعد بچہ رشتہ دار کے حوالے کیا گیا تھا جو ہسپتال کے ہائی ڈپینڈنسی یونٹ میں کچھ دیر کے لیے موجود تھا، اس دوران ایک مبینہ خاتون نے موقع کا فائدہ اٹھا کر بچے کو لے کر فرار ہونے کی کوشش کی۔
رشتہ داروں کی بروقت اطلاع پر ہسپتال انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہسپتال کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی بڑھا دی اور ہسپتال کے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مبینہ اغواء کار کی شناخت کی۔
سیکورٹی انچارج اے ایس آئی آمرالملک اور اہلکاروں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اغواء کار خاتون کو ہسپتال کی شعبہ حادثات کے گیٹ پر روک کر گرفتار کیا اور نومولود کو بازیاب کرا کر دوبارہ رشتہ داروں کے حوالے کر دیا گیا۔
مبینہ اغواء کار کی شناخت تاج مینہ کے طور پر ہوئی ہےجو مردان بغدادہ کی رہائشی ہے، ملزمہ کے خلاف ہسپتال انتظامیہ نے اغواء کا مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ پشاور کے تھانہ شرقی میں درج
ادھر کراچی کے علاقے میمَن گوٹھ میں زہرہ ہسپتال میں نومولود کو ہسپتال کے اخراجات کے عوض فروخت کر دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
والد اور والدہ کی الگ الگ درخواستوں نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، پولیس کے مطابق پہلا مقدمہ نومولود کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
والدہ نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر نے ڈلیوری کے بل کی ادائیگی نہ کرنے پر اُن کی نوزائیدہ بچی فروخت کر دی اور معمولی رقم دے کر انہیں رخصت کر دیا۔
دوسری جانب کلینک انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ خاتون نے اپنی مرضی سے بچی فروخت کر کےہسپتال کا بل ادا کیا، پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور معاملہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کے سپرد کر دیا گیا ہے۔





