باجوڑ میں سویلین آبادی نشانہ بنانےپر حکومتی خاموشی افسوسناک ہے،نثار باز

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز نے کہا ہے کہ باجوڑ کے علاقے کوثر میں گزشتہ رات سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عوام میں شدید غم و غصہ اور بے چینی پھیل گئی ہے۔

نثار باز نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ اس افسوسناک واقعے پر صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔

ان کے مطابق عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن حکومت کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ان واقعات کے خلاف واضح مؤقف اپنانا چاہیے۔

نثار باز کا کہنا تھا کہ سرد موسم میں عوام کو گھروں سے بےدخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اے این پی اس عمل کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔

 

یہ بھی پڑھیں : بدامنی پختون قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے، نثار باز

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کےضلع باجوڑ سے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز نےصوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ میں بدامنی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی، اور افسوسناک بات یہ ہے کہ مولانا خان زیب جیسے پرامن شخص کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

نثار باز کا کہنا تھا کہ مولانا خان زیب کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی، ان کا واحد “جرم” امن کی خواہش اور اس کے لیے کوشش کرنا تھا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ واقعے کو 22 دن گزر چکے ہیںلیکن قاتل تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔

اے این پی رہنما نے دعویٰ کیا کہ باجوڑ میں تین دن قبل ایک غیر اعلانیہ آپریشن شروع کیا گیا ہے ،سیکورٹی ادارے طالبان سے علاقے خالی کرانے کا کہہ رہے ہیں، آج قبائلی جرگہ طالبان سے علاقے چھوڑنے کا مطالبہ کرے گا۔

انہوں نے ایوان کو یاد دلایا کہ دو ماہ قبل انہوں نے خبردار کیا تھا کہ حالات بگڑ سکتے ہیں، لیکن کسی نے سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے بچے تک جان چکے ہیں کہ حالات کس جانب جا رہے ہیں،ریاستی ادارے اب تک اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

Scroll to Top