وزيراعلیٰ کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے علاوہ کسی چیزکی فکرنہیں،ایمل ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی )کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاہے کہ خیبر پختونخوا پچھلے 12 سال سے ایک کمپرومائزڈ صورتحال سے گزر رہا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں ایمل ولی کا کہنا تھاکہ صوبے ميں دہشتگردی، بدامنی اور طالبانائزیشن ہے، صوبے کے وزيراعلیٰ کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے علاوہ کسی چیزکی فکرنہیں۔

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کو اسی لیے وزیراعلیٰ بنایا گیا کہ جا کر قیدیوں سے ملاقاتیں کریں، جا کر چوروں کے ساتھ ملاقاتیں کریں اور ان کو رہا کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی حکومت کے دوران قیدیوں کو رہا بھی کر دیا جاتا تھا اور دہشت گردوں کو بھی رہا کر دیا جاتا تھا۔

ایمل ولی خان نے کہاکہ ابھی یہ جو چور ہے اس کو بھی نہیں رہا کیا جا سکتا کیونکہ ابھی اختیار ان کے پاس نہیں ہے۔ وزیراعلی کو چاہیے کہ وہ ان تمام کاموں سے پیچھے ہٹ جائیں، کیونکہ اس طرح وہ اپنی بے عزتی کر رہے ہیں اور قوم کی عزت کو بھی مجروح کر رہے ہیں۔

صدر اے این پی نے کہاکہ جس چیز کے لیے وہ وزیراعلیٰ ہیں کم از کم اس کا جواب دیں۔ پختونخوا میں جو حالات ہیں، ان کی طرف دیکھنا چاہیے،ان کی صرف سنجیدگی عشق عمران ہیں تو عشق عمران کے ساتھ پھر یہی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : فوج کے عزائم پر سوال اٹھانا حوصلے اور عوامی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے، گورنر کا وزیراعلیٰ کے بیان پر ردعمل

انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت نظر ہی نہیں آرہی، کچھ لوگ عشق قوم والے ہوتے ہیں، ان کو اپنی زمین اورقوم سے عشق ہوتا ہے، کچھ ہوتےہیں عشق ریاست والے جن کو ریاست اور ریاستی اداروں سے عشق ہوتا ہے۔

ایمل ولی کا کہنا تھاکہ اب ایک نئی نسل آگئی ہےان کو بانی پی ٹی آئی سے عشق ہے ان کونہ قوم کی پرواہ ہے نہ ملک کی۔

Scroll to Top