عوامی نیشنل پارٹی کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے انشاء اللہ دفاع مضبوط ہوگا اور عدالتوں کا نظام بہتر اور مؤثر ہوگا۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ الحمدللہ جن چیزوں پر اعتراض تھا حکومت نے انہیں ترمیم سے نکال دیا لہذا اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
ایک سوال کے جواب میں سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ وہ آرٹیکل 243 کی حمایت کرتے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کا 27ویں ترمیم کی حمایت کا اعلان۔
جو چیزیں ہم نہیں مان رہے تھے، حکومت نے وہ نکال دیں۔ آرٹیکل 243 میں ترمیم سے دفاع مضبوط ہوگا
ایمل ولی خان، سربراہ اے این پی@AimalWali pic.twitter.com/ugWcLiAIuP— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) November 8, 2025
اس سے قبل ایمل ولی خان نے آج میڈیا سے گفتگو میں کہا تھاکہ اگر آئینی ترمیم کے مسودے میں ان کی جماعت کی رائے کا احترام کیا گیا اور مجوزہ ترامیم عوام، صوبوں اور جمہوریت کے مفاد میں ہوئیں تو وہ یقیناً اس کے حق میں ووٹ دیں گے۔
انہوں نے مذیدکہا کہ اگر آئینی مسودے میں ہمارا اشتراک ہوتا ہے، ہماری رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور وہ عوام کی بہتری کے لیے ہے تو ہم ووٹ دیں گے لیکن اگر اس ترمیم سے عوام، صوبائی خودمختاری، اٹھارہویں ترمیم یا پارلیمان کی بالادستی کو نقصان پہنچا تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخواحکومت کا3 ایم پی او، 16 ایم پی او اور دفعہ 144 میں اصلاحات کا فیصلہ
ایمل ولی خان نے آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت قائم ہونی چاہیے لیکن اس کے لیے ایک واضح طریقہ کار ہونا چاہیے اور تمام صوبوں کا اس میں اشتراک اور برابری کی بنیاد پر نمائندگی ضروری ہے۔
ایک صحافی کے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ ان سے حکومت نے اس حوالے سے کوئی بات چیت کی ہےجس پرایمل ولی خان نے کہا کہ جی ہمارے ساتھ ڈسکشن ہوتی رہتی ہے۔
صحافی نے پوچھا کہ آپ کے دو ووٹ ہیں، تو ایمل ولی خان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا آپ نے ایک ووٹ ختم کردیا؟ ہمارے سینیٹ میں تین ووٹ ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 243 کے حوالے سے سوال پر ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ 243 میں کیا شقیں ہیں، ہماری کسی سے ذاتی لڑائی نہیں، ہماری لڑائی جمہوریت کی بالادستی کے لیے ہے، ہم گزشتہ سو سال سے جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ سفر جاری رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان 100 سالوں میں کئی شکلیں بدل گئیں مگر ہم آج بھی اسی اصول پر قائم ہیں ، اگر اس جدوجہد میں کسی سے تعلقات خراب بھی ہوں تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ انہیں اب تک آئینی ترمیم کا مسودہ موصول نہیں ہوا اور وہ شقوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی اپنی حتمی رائے دیں گے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے آئینی ترمیم کی حمایت سے متعلق سوال پر ایمل ولی خان نے کہا یہ آپ ان سے پوچھیں ہمیں ان کے فیصلے کا علم نہیں۔





