پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ترامیم میں شامل نہیں ہوگی، واک آؤٹ اور احتجاج جاری رہیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کسی بھی حال میں موجودہ آئینی ترامیم کا حصہ نہیں بنے گی اور اس سلسلے میں واک آؤٹ، احتجاج اور تقریریں جاری رکھی جائیں گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ وہ ان ترامیم میں شامل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا’’ہم نے اعلان کیا ہوا ہے کہ ہم ان ترامیم کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘‘
ایک صحافی کے سوال پر کہ نواز شریف کی پارلیمنٹ آمد پر پی ٹی آئی کس طرح ویل کم کرے گی، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نواز شریف چاہیں یا نہ چاہیں، وہ اب پاکستانی سیاست سے غیر متعلقہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف نے پارلیمان میں صرف تین الفاظ بولے ہیں اور ان کے لیے کسی نے بھی ریڈ کارپٹ نہیں بچھائی، جیسا کہ وہ توقع کر رہے تھے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ جو لوگ ریٹائر ہو جاتے ہیں وہ اکثر اس کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف سے پوچھیں کہ پرویز اشرف حکومت کے خلاف پٹیشن لے کر افتخار چوہدری کے پاس کیوں نہیں گئے؟ میاں صاحب خود وکیل بن کر میمو گیٹ کمیشن کیوں نہیں بنوایا؟
یہ بیان پی ٹی آئی کے موقف کو واضح کرتا ہے کہ وہ آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج اور سیاسی مخالفت جاری رکھے گی، اور پارٹی موجودہ حالات میں اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے۔





