کاشف الدین سید
خیبر پختونخوا ہیومن کیپٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ کے تحت پشاور کے مختلف سرکاری اسکولوں میں جاری تعمیراتی و بحالی کاموں میں سنگین بے ضابطگیوں اور معیاری اصولوں کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کی گئی خصوصی انسپیکشن رپورٹ کے مطابق متعدد اسکولوں میں کم معیار مواد کے استعمال، ریکارڈ کی عدم موجودگی، غیر منظور شدہ تعمیراتی طریقہ کار اور ناقص ورک مین شپ جیسے مسائل سامنے آئے ہیں۔
ورلڈ بینک کے 11کروڑ 50لاکھ ڈالر کے تعاون سے جاری منصوبے کا مقصد پشاور سمیت منتخب اضلاع میں تعلیم سے متعلق سہولیات کی بہتری ہے تاہم رپورٹ نے پراجیکٹ کے کوالٹی کنٹرول نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پشاور میں مجموعی طور پر 99 اسکول اس منصوبے کا حصہ ہیں جن میں سے متعدد کی تفصیلی جانچ کے دوران تشویشناک نتائج سامنے آئے۔
انسپیکشن ٹیم نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول حیات آباد میں نہ صرف مٹیریل ٹیسٹ ریکارڈ کو غائب پایا بلکہ سائٹ رجسٹر تک خالی ملا۔ رپورٹ کے مطابق غیر معیاری بجری بغیر ٹیسٹنگ استعمال کی گئی، ویسٹ سلیب کی موٹائی منظور شدہ 6 انچ کے بجائے 4سے5 انچ تھی جبکہ اینٹوں کا سائز بھی مقررہ معیار سے کم پایا گیا۔ کمزور مارٹر ریشو کے استعمال اور ناقص اینٹوں کے کام کو بھی سخت خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور،کھیلوں کے فنڈز میں مبینہ کرپشن کا معاملہ،وزیربلدیات مینا خان کا فوری کاروائی کا حکم
رپورٹ کے مطابق جی پی ایس نمبر 3 حیات آباد میں ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے ضروری اسٹیل اینکرز اور آرسی سی جنکشن پر وائر میش سرے سے نصب نہیں کی گئی جس سے عمارت میں مستقبل میں دراڑیں پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔سب سے سنگین صورتحال گرلز پرائمری اسکول علی محمد بانڈہ میں سامنے آئی جہاں آر سی سی کالم معمولی ضرب سے جھڑنے لگے۔
رپورٹ کے مطابق کنکریٹ مقررہ مکس ریشو سے انتہائی کمزور پایا گیا جو مستقبل میں خطرناک ساختی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔سفید سنگ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں بھی غیر معیاری ایگریگیٹ، ناقص اینٹیں، کم موٹائی کی سلیب اور غیر کمپیکٹڈ مٹی بھرائی جیسے مسائل سامنے آئے۔ سائٹ ریکارڈ بھی غائب تھا۔ریجنل پروفیشنل ڈویلپمنٹ سینٹر میں ناقص ڈسٹیمپرنگ، غیر معیاری اور خطرناک کم گیج بجلی کے تار اور غیر یکساں و کم معیار سیلنگ ٹائلز استعمال ہونے کا انکشاف ہوا۔
انسپیکشن کمیٹی نے سخت کارروائیوں کی سفارش کی ہے اور کہا ہے کہ تمام مٹیریل ٹیسٹ رپورٹس فوری فراہم کی جائیں، بصورت دیگر کام روکا جائے اسی طرح غیر معیاری مواد فوری ہٹا کر منظور شدہ معیار کے مطابق دوبارہ فراہم کیا جائے جبکہ جہاں ڈیزائن کے خلاف کام ہو چکا ہے اسے منہدم کرکے دوبارہ تعمیر کیا جائے۔
ناقص کارکردگی پر کنٹریکٹر کے خلاف عدم تعمیل رپورٹ جاری کرنے اور ادائیگیاں روکنے کی سفارش بھی کی گئی ہے جبکہ الیکٹریکل و فنشنگ کاموں کو معیار کے مطابق ازسرنو انجام دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام اصلاحی اقدامات کی تکمیل اور دوبارہ ٹیسٹنگ کے بغیر کسی اسکول کے متعلق بھی ادائیگی منظور نہ کی جائے۔





