پرتگال کی کمپنی لیمپسی ہیلتھ نے ایک جدید لیمپ پیش کیا ہے جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے مرگی کے دوروں کو حقیقی وقت میں پہچان سکتا ہے۔
کمپنی کے نمائندے کے مطابق یہ آلہ نہ صرف جانیں بچانے میں مددگار ہے بلکہ مریض اور ان کے گھر والوں پر جذباتی دباؤ بھی کم کرتا ہے، خاص طور پر بچوں کے لیے جو والدین کے پاس سوتے ہیں۔
یہ لیمپ بغیر جسمانی رابطے کے کام کرتا ہے اور صرف مریض کی حالت کا جائزہ تصویروں کے ذریعے لیتا ہے، جبکہ کوئی تصویر یا معلومات محفوظ یا شیئر نہیں کی جاتیں، جس سے مکمل رازداری برقرار رہتی ہے۔
اس کی درستگی تقریباً 99 فیصد ہے اور غلط الارم کی شرح دیگر طریقوں کے مقابلے میں 18 گنا کم ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 50 لاکھ افراد مرگی سے متاثر ہیں، اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ رات کے وقت ہونے والے زیادہ تر مرگی کے دورے پہچانے نہیں جاتے، جس سے اچانک موت کے سنگین خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ جدید لیمپ 2026 میں یورپ بھر میں فروخت کے لیے دستیاب ہوگا، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آلہ مریضوں کی نگرانی کے طریقہ کار میں انقلاب برپا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : نو عمر بچوں میں بلڈ پریشر کیوں بڑھ رہا ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات بتا دیں
ایک تازہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ پچھلے بیس سالوں کے دوران دنیا بھر کے نو عمر بچوں اور نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح تقریباً دوگنا ہو گئی ہے، اور ماہرین کے مطابق مستقبل میں یہ شرح مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
چین کی ژی جیانگ یونیورسٹی کے محققین کی تحقیق کے مطابق سال 2000 میں لڑکوں میں 3.4 فیصد اور لڑکیوں میں 3 فیصد نو عمر افراد ہائی بلڈ پریشر کے شکار تھے، جو 2020 تک بڑھ کر بالترتیب 6.5 فیصد اور 5.8 فیصد ہو گئی۔
یہ نتائج حال ہی میں معروف میڈیکل جرنل دی لانسیٹ چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ ہیلتھ میں شائع ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نو عمر بچوں میں بڑھتا ہوا بلڈ پریشر دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے، جو خاص طور پر امریکہ جیسے ممالک میں موت کی بڑی وجہ ہے۔
تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ مناسب اسکریننگ، بروقت تشخیص اور صحت مند وزن و غذائیت پر توجہ سے اس کے اثرات کو روکا جا سکتا ہے۔
تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کی سب سے بڑی وجہ موٹاپا ہے، جو سوزش کے امکانات بڑھاتا ہے اور خون کی نالیوں کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ نمکین اور الٹرا پروسیسڈ فوڈز، ناقص نیند اور ذہنی دباؤ بھی اس کا سبب بنتے ہیں۔





