وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی حالیہ خبر پر فوری قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خود ایکشن نہ لیں تو وہ ذاتی حیثیت میں عدالت سے رجوع کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ ثابت ہو کہ عدالتوں نے بھی اس خبر کی تائید نہیں کی۔
خواجہ آصف نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کو برطانیہ میں بھی کیس کرنا چاہیے تاکہ حقائق مکمل طور پر سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ گوگی کیس کی حقیقت کیا ہے اور وہ کہاں سے آئی اور کہاں گئی۔
وزیرِ دفاع نے عدالتی نظام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہے اور اسی بنیاد پر پاکستان میں بھی عدالتی ڈھانچہ الگ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ججز کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر جوڈیشری کا اختیار ہے حکومت کا نہیں، اور دنیا بھر میں ججز کا تبادلہ معمول کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کے مخصوص بینچز ماضی میں بارہا بنتے رہے، اور نواز شریف کے کیسز بھی سیدھے سپریم کورٹ میں لے جائے گئے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ نواز شریف کی نااہلی ایک سیاسی فیصلہ تھا، اللہ نے انہیں دوبارہ واپس لے آیا، لیکن اس وقت کسی کا ضمیر نہیں جاگا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخواحکومت کا دی اکانومسٹ کے خلاف عالمی فورم سے رجوع کرنے کا اعلان
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جج اعجاز الاحسن سمیت کچھ ججز کے بینچ بار بار تشکیل پاتے رہے، جو خود ہی مانیٹرنگ جج بھی بن جاتے تھے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اس کے برعکس بانی پی ٹی آئی کے کیسز مکمل عدالتی عمل سے گزر کر نیچے سے اوپر جا رہے ہیں جبکہ نواز شریف کو یہ سہولت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں اور کردار میں شفافیت ضروری ہے اور اگر کسی غیر معمولی تقرری یا کارروائی پر اعتراض ہے تو حقائق سامنے لائے جائیں۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ حکومت نے کوئی غیر معمولی اقدام نہیں اٹھایا، صرف وہی اختیارات استعمال کر رہی ہے جو قانون اور آئین فراہم کرتے ہیں۔





