غلط ایڈیٹنگ مہنگی پڑ گئی، ٹرمپ کا بی بی سی پر مقدمے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف 5 ارب ڈالر کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بی بی سی نے ان کی 6 جنوری کی تقریر کی ویڈیو میں غلط اور گمراہ کن ایڈیٹنگ کی جس سے انہیں اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ بی بی سی نے ویڈیو میں اس طرح ترمیم کی کہ جیسے وہ تشدد کی حمایت کر رہے ہوں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ بی بی سی نے دھوکا دیا ہے نہ صرف یہ فیک نیوز ہے بلکہ مکمل طور پر کرپٹ بھی ثابت ہوا ہے۔

واقعہ سامنے آنے کے بعد بی بی سی نے اعتراف کیا تھا کہ ٹرمپ کی تقریر میں غلط ایڈیٹنگ ہوئی جس پر ادارے نے باضابطہ طور پر صدر ٹرمپ سے معافی بھی مانگی۔

سکینڈل کے بعد بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور نیوز ہیڈ ڈیبو را ٹرنز نے استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ اگلے ہفتے بی بی سی کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ فائل کریں گے جس کی مالیت 1 ارب سے 5 ارب ڈالر تک ہوسکتی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ان کی تقریر کو اس طرح پیش کیا گیا جیسے میں تشدد کی حمایت کر رہا ہوں، یہ نہ صرف صحافتی بددیانتی ہے بلکہ جمہوریت کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بی بی سی کی ٹرمپ سے معذرت، لیکن مالی معاوضہ دینے سے انکار

بی بی سی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اُن کی تقریر کی غلط ایڈیٹنگ کرنے پر معافی مانگ لی تاہم معاوضہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

بی بی سی نے گزشتہ روز یقین دہانی کروائی تھی کہ 2024 میں نشر ہونے والی ٹرمپ کی ایڈٹ شدہ دستاویزی فلم دوبارہ نہیں دکھائی جائے گی۔

Scroll to Top