وزارتِ مذہبی امور نے سرکاری حج اسکیم 2026 کے تحت واجبات کی دوسری قسط جمع کرنے کی آخری تاریخ میں تین روز کی توسیع کر دی ہے۔
ترجمان کے مطابق درخواست گزار اب 19 نومبر تک لازمی طور پر اپنی ادائیگیاں مکمل کر سکتے ہیں۔
ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ مقررہ تاریخ تک دوسری قسط جمع نہ کرانے کی صورت میں امیدوار کی درخواست خود بخود منسوخ ہو جائے گی اور وہ سرکاری حج اسکیم کا حصہ نہیں رہ سکیں گے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ مہلت میں یہ اضافہ صرف درخواست گزاروں کو سہولت دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ کوئی بھی مستحق فرد مالی ادائیگی میں تاخیر کے باعث حج سے محروم نہ رہ جائے۔
حج کی خواہش رکھنے والے تمام درخواست گزاروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بینکوں میں مقررہ طریقہ کار کے مطابق فوری طور پر اپنی دوسری قسط جمع کرائیں تاکہ ان کے انتظامات بروقت مکمل اور محفوظ کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : حج پر جائیں یا نہ جائیں؟ فیصلہ اب آپ کی صحت رپورٹ کرے گی، خواہش نہیں
سعودی حکومت نے اگلے سال حج کی ادائیگی کے لیے صحت کے حوالے سے نئے اصول جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کچھ سنگین یا متعدی بیماریوں کے مریض حج میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ ان پابندیوں کا مقصد بڑے اجتماع میں عازمین کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
وزارتِ مذہبی امور کی ویب سائٹ پر شائع نوٹس کے مطابق سعودی وزارتِ صحت نے واضح کیا ہے کہ ایسے افراد جنہیں گردوں کی شدید خرابی ہو اور وہ ڈائیلاسس کے محتاج ہوں، دل کے ایسے مریض جو ہلکی جسمانی مشقت بھی برداشت نہیں کر پاتے، یا پھیپھڑوں کے دائمی امراض میں مبتلا افراد جنہیں مسلسل یا وقفے وقفے سے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے—انہیں حج کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ جگر کی ناکامی یا سیروسس کے مریض بھی ممنوعہ فہرست میں شامل ہیں۔
نوٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اعصابی و دماغی امراض جیسے ڈیمینشیا، یادداشت کی انتہائی کمزوری، شدید رعشہ، اور جسمانی معذوری کا شکار افراد کو حج سے روکا جائے گا۔
اسی طرح الزائمر میں مبتلا بزرگ شہری، اور ایسی خواتین جن کا حمل آخری مرحلے میں ہو یا پیچیدگیوں کا باعث بن رہا ہو، وہ بھی حج نہیں کر پائیں گی۔
سعودی پالیسی کے مطابق ایسی تمام بیماریاں جو بڑے اجتماعات میں دوسروں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں—مثلاً کالی کھانسی، کھلی تپِ دق (اوپن ٹی بی) اور وائرل ہیمرجک فیور—ان میں مبتلا عازمین کو بھی حج کی اجازت نہیں ملے گی۔
مزید براں کینسر کے آخری مراحل میں مبتلا افراد یا وہ مریض جو کیموتھراپی، بائیولوجیکل اور ریڈیولوجیکل علاج سے گزر رہے ہوں، نئی فہرست کے مطابق حج کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔
پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور نے اس حوالے سے اپنے اعلامیے میں ڈاکٹروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ عازمین کو مکمل میڈیکل جانچ کے بعد ہی فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کریں۔
وزارت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی عازم نے اپنی بیماری یا صحت سے متعلق غلط معلومات دیں تو اسے سعودی عرب سے اپنے خرچ پر واپس بھجوا دیا جائے گا۔





