والدین ہو جائیں ہوشیار، کم عمر بچوں کا سوشل میڈیا استعمال اب مہنگا پڑے گا

آسٹریلوی حکومت نے والدین اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ کم عمر بچوں کا سوشل میڈیا استعمال اب مہنگا پڑے گا۔

آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی؛ خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ ہو گا۔

آسٹریلوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 10 دسمبر سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد ہوگی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندی بچوں کو سوشل میڈیا کے دباؤ اور خطرات سے بچانے کے لیے ضروری ہے کیونکہ تحقیق میں ظاہر ہوا ہے کہ زیادہ تر بچے نقصان دہ مواد اور سائبر بلیئنگ کا شکار ہوتے ہیں۔

حکومت کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں معقول اقدامات کریں گی تاکہ 16 سال سے کم بچے پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ نہ بنا سکیں اور موجودہ اکاؤنٹس کو غیر فعال یا حذف کیا جائے۔

پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر کمپنیاں 49.5 ملین آسٹریلوی ڈالر یعنی پاکستانی 893 کروڑ سے زائد تک کے جرمانے کی زد میں آئیں گی۔

کون سے پلیٹ فارم اس پابندی سے متاثر ہوں گے؟

اس پابندی سے متاثر ہونے والے پلیٹ فارمز میں فیس بک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ، تھریڈ، ٹیک ٹاک، ایکس، یوٹیوب، ریڈٹ، کیک اور ٹویچ شامل ہیں، آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز بھی مستقبل میں اس پابندی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

پابندی کس طرح نافذ ہوگی؟

حکومت نے واضح کیا کہ عمر کی تصدیق کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز استعمال کی جا سکتی ہیں، جیسے کہ سرکاری شناختی کارڈ، چہرہ یا آواز کی شناخت، یا آن لائن رویے کے ذریعے عمر کا اندازہ لگانا۔ صارفین کی خود کی عمر ظاہر کرنے یا والدین کی ضمانت پر انحصار نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اداکار زاہد احمد نے سوشل میڈیا صارفین سے معافی مانگ لی

میٹا کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 4 دسمبر سے نوجوانوں کے اکاؤنٹس بند کرنا شروع کرے گی جبکہ دیگر پلیٹ فارمز نے پابندی پر عملدرآمد کا طریقہ ابھی واضح نہیں کیا۔

Scroll to Top