قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ اسٹیشن کے احاطے کے اندر موجود تمام افراد اپنے ووٹ کاسٹ کر سکیں گے، ملک بھر میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔
انتخابات کے لیے مجموعی طور پر 2792 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے جن میں سے 792 کو حساس اور 408 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔
سیکیورٹی کے لیے پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کو کوئیک ری ایکشن فورس کے طور پر تعینات کیا گیا جبکہ 20 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار بھی ڈیوٹی پر موجود رہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا وقت نہیں بڑھایا گیا تاہم مقررہ وقت کے اندر پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود تمام ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی، الیکشن کمیشن کا مرکزی کنٹرول روم انتخابی عمل کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔
قومی اسمبلی کے مختلف حلقوں میں ضمنی انتخاباتی معرکے پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں اور کئی نشستوں پر دلچسپ اور سخت مقابلے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
ہری پور کے حلقہ این اے 18 میں آج اصل سیاسی دنگل سمجھا جا رہا ہے جہاں عمر ایوب کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست پر ان کی اہلیہ میدان میں اُتری ہیں، ان کا آمنا سامنا مسلم لیگ (ن) کے مضبوط امیدوار بابر نواز سے ہے، اور حلقے میں نہایت سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع خیبر منشیات کا گڑھ ، منشیات کے دھندے میں پی ٹی آئی کے لوگ حصہ دار ہیں ، اختیار ولی
ساہیوال کے حلقہ این اے 143 میں بھی انتخابی گہمگہمی اپنے عروج پر ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طفیل اور آزاد امیدوار ضرار اکبر ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔
ڈیرہ غازی خان کے حلقہ این اے 185 میں پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ اور مسلم لیگ (ن) کے محمود قادر لغاری کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے۔ اس نشست پر انتخاب زرتاج گل کی نااہلی کے بعد ہو رہا ہے۔
اسی طرح جڑانوالہ کے حلقہ این اے 96 میں مسلم لیگ (ن) کے بلال بدر اور آزاد امیدوار نواب شیر کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ یہ نشست رائے حیدر علی خان کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔
فیصل آباد کے حلقہ این اے 104 میں مسلم لیگ (ن) کے راجا دانیال ریاض اور آزاد امیدوار رانا عدنان آمنے سامنے ہیں، جبکہ یہ نشست سنی اتحاد کونسل کے حامد رضا کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی۔





