سلمان یوسفزئی
خیبر پختونخوا میں ایڈز کے بڑھتے کیسز تشویشناک حد تک پہنچ گئے ہیں۔
صوبائی ایڈز پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق حیات تاج کے مطابق خیبر پختونخوا میں اس وقت اندازا 40 ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں جبکہ روزانہ 15 سے 20 نئے مریض رجسٹر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : صبح خالی پیٹ پانی پینے سے صحت پر ہونے والے حیران کن فوائد
پشاور پریس کلب میں عالمی یومِ ایڈز کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق حیات نے بتایا کہ صوبے میں 9 ہزار 800 مریض باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں، تاہم معاشرتی رویوں کے باعث بہت سے لوگ ٹیسٹ کرانے سے گریز کرتے ہیں۔
ان کے مطابق عطائی ڈاکٹروں، غیر قانونی کلینکس اور ایک سرنج کے بار بار استعمال نے ایڈز کے پھیلاؤ میں خطرناک کردار ادا کیا ہے، جس کے تدارک کے لیے ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کو مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ایڈز کا علاج موجود ہے اور مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ صوبے میں سب سے زیادہ متاثرہ افراد منشیات کے استعمال کرنے والے ہیں جبکہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی اور سیکس ورکرز دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔
ڈاکٹر طارق حیات کے مطابق پشاور کے اقبال پلازہ سمیت مختلف ہاٹ سپاٹس پر ٹرانس جینڈر افراد کی اسکریننگ کے دوران 197 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی جس سے کمیونٹی کو شدید صدمہ پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیماری نہ صرف جنسی تعلق سے بلکہ استعمال شدہ بلیڈ، غیر محفوظ آلات اور گندی سرنجوں کے ذریعے بھی پھیلتی ہے، اس لیے احتیاط بہت ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایڈز کا مرض اب آہستہ آہستہ عام آبادی میں بھی داخل ہو رہا ہے، اس لیے شہری اپنے ٹیسٹ کروائیں اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ جنس کی بنیاد پر صوبے میں 60 فیصد متاثرین مرد، 30 فیصد خواتین اور 10 فیصد خواجہ سرا ہیں۔
پریس بریفنگ میں یونیسیف کے ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر انعام اللہ خان نے عوام سے اپیل کی کہ ایڈز کے مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک نہ کیا جائے اور انہیں عزت اور حوصلہ دیا جائے۔
اس موقع پر عباس دورانی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن ایچ آئی وی ایڈز پروگرام نے کہا کہ افریقہ اور خلیجی ممالک سے آنے والے کئی پاکستانیوں میں بھی ایچ آئی وی کی علامات پائی جاتی ہیں، اس لیے بیرون ملک جانے والے افراد کو احتیاط برتنا چاہیے اور اسلامی اقدار کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنی چاہیے۔





