شاہد جان
پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت جاری ہے جس میں آج کا ایجنڈا معطل کر دیا گیا۔
پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈراحمد کُنڈی نے مطالبہ کیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایوان میں این ایف سی ایوارڈ پر تفصیلی بحث کی جانی چاہیے، جس پر انہوں نے اسپیکر سے ایجنڈا معطل کرنے کی درخواست کی۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے درخواست منظور کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آج کا ایجنڈا معطل کیا جاتا ہے اور اجلاس کے آخر میں صرف قراردادیں پیش کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر افسران کے تقرری و تبادلے
بحث کے دوران اسپیکربابر سلیم سواتی نے حکومتی رکن سجاد بارکوال سے ’’مقتدر حلقوں‘‘ اور ’’ریاست‘‘ کی تعریف پوچھ لی۔سجاد بارکوال نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ این ایف سی میں جو ریاست چاہتی ہے وہی حق ملتا ہے۔
اسپیکر نے دریافت کیا کہ این ایف سی کی شرح کون طے کرتا ہے؟ جس پر بارکوال نے کہا کہ ریاست فیصلہ کرتی ہے کہ کس صوبے کو کتنا حصہ دیا جائے، حکومت چاہے کسی پارٹی کی ہو، فیصلہ ریاست نے ہی کرنا ہوتا ہے۔
اسپیکر نے مزید سوال کیا کہ ’’یہ ریاست کون ہے؟‘‘ جس پر سجاد بارکوال نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ریاست مقتدر حلقے یعنی اسٹیبلشمنٹ ہے۔
اس موقع پر اسپیکر نے کہا کہ احمد کنڈی آئین کے مطابق ریاست کی تعریف بتائیں۔ پیپلز پارٹی کے احمد کنڈی نے آئین کے آرٹیکل 7 کے تحت ریاست کی آئینی تعریف پیش کی۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ملٹری اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے، ریاست وہ ادارے ہیں جو عوام کے ووٹ سے وجود میں آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی سے لے کر انگریز دور تک ملٹری اسٹیبلشمنٹ استعمال ہوتی رہی، لیکن ریاست کی اصل تعریف وہی ہے جو آئین میں درج ہے۔
اسپیکر نے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست آپ لوگ ہیں، اور آپ نے جو بھی بات کرنی ہے آئین و قانون کے مطابق کرنی ہے۔





