بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کی سیاسی کمیٹی تحلیل کر دی

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی نے پارٹی کی سیاسی کمیٹی تحلیل کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پارٹی سربراہ نے سلمان اکرم راجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ازسر نو نئی کمیٹی تشکیل دیں۔

خیبر پختونخوا میں انصاف لائرز فورم کے معاملات اب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سپرد کر دیے گئے ہیں، جبکہ پاکستان بار کے انتخابات کی تیاریوں کی ذمہ داری سینیٹر حامد خان اور سلمان اکرم راجہ کو سونپی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سلمان اکرم راجہ نہ صرف نئی کمیٹی کی تشکیل کے ذمہ دار ہوں گے بلکہ پارٹی کی سیاسی حکمت عملی مرتب کرنے میں بھی مرکزی کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں : عظمیٰ خان کی عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہونے کی تصدیق

یاد رہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان سے ان کی بہن عظمیٰ خانم کی ملاقات کے بعد سابق وزیراعظم کی صحت کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کی تردید ہوگئی ہے۔

ملاقات کے بعد عظمیٰ خانم نے بتایا کہ عمران خان خیریت سے ہیں اور ان کی صحت تسلی بخش ہےتاہم انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ عمران خان کو طویل عرصے سے تنہائی میں رکھا گیا ہے اور مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔

عظمیٰ خانم نے بتایا کہ عمران خان نے شکایت کی کہ گزشتہ چار ہفتوں سے انہیں کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ایک چھوٹے کمرے میں مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

ان کے مطابق عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی مکمل حمایت کا بھی اظہار کیا اور بتایا کہ وہ مشکلات کے باوجود فرنٹ فٹ پر کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ جب کوئی قانون نافذ کرنا ہوتا ہے تو پی ٹی آئی پر کیا جاتا ہے، انہوں نے سہیل آفریدی کے لیے اور بھی پیغام دیے ہیں جو انہیں بتاؤں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے واضح پیغام دیا ہے کہ جو وکٹ کی دونوں جانب کھیلتے ہیں ان کے لیے تحریک انصاف میں کوئی جگہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کارکنان نےپشاور اسلام آباد موٹروے بند کردی،مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ عمران خان کی بہنوں کی ملاقات انتہائی ضروری تھی کیونکہ ایک ماہ سے ان کی اپنے بھائی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ عظمیٰ خانم کو آج ملاقات کی اجازت ملی جس سے پارٹی کارکنوں اور خاندان کو بھی اطمینان ہوا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے شکوہ کیا کہ ملاقات کے لیے ان کا نام بھی دیا گیا تھا مگر اب تک انہیں نہ اجازت ملی ہے اور نہ ہی کوئی اطلاع فراہم کی گئی ہے، جس سے بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔

Scroll to Top