اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اگر سخت بیانات دیے جائیں گے تو اسی نوعیت کا جواب دیا جائے گا۔
وہ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں ملکی سیاست اور حالیہ صورتحال پر گفتگو کر رہے تھے۔
فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ انہیں اس لیے پارٹی سے نکالا گیا کیونکہ وہ باوفا تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا واحد درست طریقہ سیاسی اور قانونی راستہ ہے، اور یہ کہ ان کی بہنوں کا یہ حق ہے کہ وہ خیریت پوچھنے کے لیے مل سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ملک میں جمہوریت مضبوط ہو اور سیاسی گفتگو کے ذریعے راستے نکلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ منگل کو اڈیالہ جیل نہ جائیں، اور جب وہ نہیں گئے تو ملاقات ممکن ہو گئی۔
فیصل واوڈا نے واضح کیا کہ ریاست اور اداروں کے خلاف بیان بازی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی جس لب و لہجے میں سیاست کرے گی، اسی نوعیت کا ردعمل سامنے آئے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ لوگ سیاسی عمل کا حصہ رہیں، لیکن حد سے تجاوز کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے کہا۔
یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دسمبر 2030 تک چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات،نوٹیفکیشن جاری
انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث تمام افراد کو قانون کے سامنے لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے سرکاری مشینری کے استعمال کی اجازت نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو لوگ پاکستان یا ریاستی اداروں کے خلاف بات کر رہے ہیں، ان کے لیے بھی قانون کے مطابق کارروائی کا طریقہ موجود ہے۔





