محمد اعجا زآفریدی
خیبر پختونخوا حکومت نے شہداءکے اہل خانہ کی سرکاری ملازمتوں میں بھرتی سے متعلق قواعد میں ترمیم کردی ہے ۔
اس حوالے سے محکمہ اسٹیبلشمنٹ خیبرپختونخوا نے باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا جس کے مطابق شہید کی بیوہ یا بچوں کی تعیناتی اب نئے رولز کے تحت کی جائے گی،یہ ترمیم خیبر پختونخوا سول سرونٹس رولز 1989 میں شامل کی گئی ہے۔
ا س سلسلے میں محکمہ اسٹبلشمنٹ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کسی سرکاری ملازم کی ملازمت کے دوران دہشت گردی یا دہشت گردانہ کارروائی میں ہلاکت ہوجاتی ہے تو اس شہید ملازم کے بیٹے یا بیوہ کو سرکاری ملازمت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : چیف آف ڈیفنس فورسز کے ہیڈکوارٹرز کا آغاز ہو گیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
نئی ترمیم کے تحت شہید ملازم کے بچوں یا بیوہ کو گریڈ 1 سے گریڈ 11 تک کی اسامیوں پر بنیادی کیٹیگری میں تعینات کیا جاسکے گا جبکہ گریڈ 12 اور اس سے اوپر کی اسامیوں کے لئے کم از کم تعلیمی قابلیت کا ہونا لازمی ہوگا۔
نئے ترمیم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر شہید کے ایک سے زائد بچے یا بیوہ ملازمت کے اہل ہوں، تو اس صورت میں بیوہ کو ترجیح دی جائے گی ۔
اعلامیہ کے مطابق اگر ملازمت کے وقت مناسب نشست یا گریڈ دستیاب نہ ہو تو اہل امیدوار کو کم گریڈ میں تعینات کیا جاسکتا ہے تاہم بعد میں اعلیٰ گریڈ کی اسامی خالی ہونے پر ترقی دی جا سکے گی۔
اعلامیہ میں مزیدکہا گیا ہے کہ اگر ترجیحی امیدوار مقررہ قابلیت نہیں رکھتا تو اسے اسی پوسٹ پر تعیناتی نہیں دی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ سہولت صرف ان اسامیوں تک محدود رہے گی جو پبلک سروس کمیشن کے دائرہ کار سے باہر ہوں یعنی کمیشن کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔





