کاشف الدین سید
اسلام آباد: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت آج میران بلاک کے شیئرز کی پارٹنر اداروں کو منتقلی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں صوبائی حکومت، او جی ڈی سی ایل اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندے موجود تھے۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ میران بلاک کے 49 فیصد شیئرز او جی ڈی سی ایل کو منتقل کیے گئے ہیں جبکہ 51 فیصد کے پی او جی سی ایل کے پاس رہیں گے۔ اس منصوبے کو صوبے میں تیل و گیس کی تلاش اور دریافت کے نئے دور کی بنیاد قرار دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ تیل و گیس کی دریافت سے مقامی روزگار، کاروبار اور صنعت کو فروغ ملے گا اور قدرتی وسائل پر پہلا حق ہمیشہ مقامی آبادی کا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فیصلے مقامی مفاد کے تحت کیے جائیں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ میران بلاک کنسورشیم کی قیادت او جی ڈی سی ایل کرے گا جبکہ جی ایچ پی ایل اور پی پی ایل شراکت دار ہوں گے۔ کے پی او جی سی ایل کے 51 فیصد شیئرز کی سرمایہ کاری بھی کنسورشیم فراہم کرے گا۔ اس معاہدے سے تقریباً 22 ارب روپے کی سرمایہ کاری خیبر پختونخوا میں آئی جبکہ صوبائی حکومت اور کے پی او جی ڈی سی ایل کو 12 ارب روپے کی بچت بھی ہوئی۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور آمدنی کے نئے ذرائع کی جانب بڑھ رہا ہے، صوبے میں سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لیے ہر ممکن سہولت دی جائے گی، اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت توانائی کے منصوبوں پر معمول سے ہٹ کر کام کر رہی ہے اور صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔





