پارلیمان میں پی ٹی آئی کی جارحانہ حکمتِ عملی روکنے کا فیصلہ، خلاف ورزی پر ارکان کی رکنیت معطل ہوگی

شیراز احمد شیرازی

 پارلیمانی محاذ پر پی ٹی آئی کی غیرسیاسی اور جارحانہ حکمتِ عملی کو روکنے کے لیے اہم اور بڑے فیصلے کرلیے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے وہ ارکان جو ایوان میں بدزبانی، ڈائس کا گھیراؤ، ہلڑ بازی یا ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کریں گے ان کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مطابق چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی دونوں ایوانوں کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائیں گے۔

ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر، گالم گلوچ، ڈائس کا گھیراؤ اور بانی کی تصاویر ایوان میں لانے والے پی ٹی آئی ارکان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد

قائمقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر پیر یا منگل کو پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر کو باضابطہ خط ارسال کریں گے جس میں انہیں ایوان میں دی گئی رولنگ پر فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے گی۔

خط میں پی ٹی آئی کو غیرجمہوری اور غیرقانونی طرز عمل پر ممکنہ کارروائی سے بھی خبردار کیا جائے گا، جبکہ ایوان کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے سے اجتناب کی نصیحت بھی شامل ہوگی۔

سیدال خان ناصر نے کہا ہےکہ ریاست اور اداروں کے خلاف پی ٹی آئی کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی رولنگ سیاسی نہیں بلکہ آئین و قانون کا تقاضا تھی، اسی رولنگ کی روشنی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر کو خط لکھا جائے گا جس کی کاپی تمام پارلیمانی لیڈروں کو بھی بھیجی جائے گی۔

قائمقام چیئرمین نے اعلان کیا کہ اداروں پر حملہ، تنازع اور انتشار پھیلانے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ رولنگ پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب تک برداشت کیا گیا لیکن آئندہ کسی بھی خلاف ورزی پر متعلقہ سینیٹرز کی رکنیت فوری طور پر معطل کی جائے گی جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں رکنیت طویل مدت کے لیے بھی معطل کی جا سکتی ہے۔

Scroll to Top