خیبرپختونخوا میں ہیلتھ ایمرجنسی، اسپتالوں میں علاج کی سہولیات بہتر بنانے کا اعلان

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

یہ اعلان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع اللہ جان نے کیا۔

شفیع اللہ جان کے مطابق ہیلتھ ایمرجنسی کا بنیادی مقصد اسپتالوں میں سہولیات کو بہتر بنانا، علاج تک رسائی کو آسان کرنا اور عوام کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔

صوبے میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت عوام سرکاری و نجی اسپتالوں میں مختلف امراض کا مفت علاج اور آپریشنز کروا سکتے ہیں، جبکہ او پی ڈی میں مفت علاج اور ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

پشاور کے تین بڑے تدریسی اسپتالوں میں مجموعی طور پر 4720 بیڈز دستیاب ہیں، جن میں لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 1870، خیبر ٹیچنگ اسپتال میں 1600 اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں 1250 بیڈز شامل ہیں۔

صوبائی حکومت پشاور میں پانچ ہزار بیڈز پر مشتمل نئے اسپتال کے قیام اور مختلف اضلاع میں چار نئے ایک ہزار بیڈز کے اسپتال بنانے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نشانِ حیدر سوار محمد حسین شہید کا 54واں یومِ شہادت، مسلح افواج کے سربراہان نے خراجِ عقیدت پیش کیا

شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی حکومت اپنے دستیاب وسائل سے 100 ارب روپے نقد ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ وفاق کی جانب سے 4 ہزار ارب روپے واجب الادا ہیں۔

انہوں نے اسلام آباد کے بڑے سرکاری اسپتال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وسائل کی فراوانی کے باوجود وہاں صرف 1200 بیڈز ہیں، جو خیبرپختونخوا کی کارکردگی اور ترجیحات سے واضح فرق دکھاتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہے اور ہیلتھ ایمرجنسی کے نفاذ سے علاج معالجہ، سہولیات اور انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری آئے گی۔

Scroll to Top