بھارت میں فٹبالر میسی کے اعزاز میں ایونٹ بدانتظامی کا شکار، شائقین مشتعل ہو گئے

بھارت کے شہر کولکتہ میں عالمی شہرت یافتہ فٹبال اسٹار لیونل میسی کے اعزاز میں منعقد کیا گیا میگا ایونٹ شدید بدانتظامی اور ناقص سیکیورٹی کی بدترین مثال بن گیا۔

 کولکتہ کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں میسی کی چند منٹ کی مختصر موجودگی نے شائقین میں شدید غصہ پیدا کر دیا، جس کے نتیجے میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق میسی صبح تقریباً 11:45 بجے اسٹیڈیم پہنچے، وی آئی پیز سے ملاقات کی، تصاویر بنوائیں اور شائقین کو ہاتھ ہلا کر اشارہ  کیا تاہم سیکیورٹی میں سنگین خلل کے باعث انہیں صرف 15 سے 20 منٹ بعد ایونٹ چھوڑنا پڑا۔

میسی کی اچانک روانگی کی خبر پھیلتے ہی ہزاروں شائقین مشتعل ہو گئے، کرسیاں اکھاڑ کر میدان میں پھینک دیں اور پچ پر داخل ہو گئے، کئی شائقین نے شکایت کی کہ گھنٹوں انتظار کے باوجود نہ تو وہ میسی کو اسکرین پر دیکھ سکے اور نہ ہی قریب سے ملاقات کا موقع ملا۔

ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے واقعے کو شرمناک بدانتظامی قرار دیتے ہوئے عوام اور لیونل میسی دونوں سے معافی مانگی، انہوں نے تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے اور ٹکٹوں کی رقم واپس کرنے کا اعلان کیا

بھارتی میڈیا کے مطابق بڑی تعداد میں ٹکٹ بلیک مارکیٹ کے ذریعے فروخت کیے گئے تھے، جس سے رقم کی واپسی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بھارتی دھرندھر کے جواب میں فلم ریلیز کرنے کا اعلان

پولیس نے ایونٹ کے مرکزی منتظم ستادرو دتہ کو حراست میں لے لیا ہے، میسی کی بھارت میں کولکتہ کے بعد حیدرآباد، ممبئی اور نئی دہلی میں تقریبات شیڈول ہیں۔

 کولکتہ میں میسی نے اپنی 70 فٹ بلند مجسمے کی بھی نقاب کشائی کی، تاہم ایونٹ کی ناکامی نے بھارت کی عالمی سطح پر ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

Scroll to Top