بنگلہ دیش میں طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی فوٹیج منظرِ عام پر آ گئی ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق عثمان ہادی پر فائرنگ میں ملوث مشتبہ شوٹرز کی فوٹیج 6 دسمبر 2025 کو بھارت سے بنگلہ دیش میں پٹرپول-بینا پول سرحد عبور کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
بنگلہ دیش پولیس اس واقعے کے بعد ان افراد کو فائرنگ کے اہم مشتبہ ملزمان کے طور پر تلاش کر رہی ہے۔
دریں اثناعثمان ہادی کے مبینہ حملہ آوروں کی ایک نئی ویڈیو بھی منظر عام پرآگئی ہے ،ویڈیو میں ’’را‘‘ ایجنٹ 13 دسمبر 2025 کو ڈھاکہ ریلوے اسٹیشن پر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ دونوں ایجنٹ 6 دسمبر 2025 کو بھارت سے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے تھے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے علاقے شاہ باغ میں عثمان ہادی کے قتل کے خلاف ایک بڑا احتجاج جاری ہے۔
اس احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔ طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل کے خلاف ہونے والے اس مظاہرے کے دوران بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی جا رہی ہے۔





