شہزاد نوید
گجرانوالہ میں مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے سوات کے دو نوجوانوں کی ہلاکت کو لواحقین نے جعلی مقابلہ قرار دے دیا۔
اس سلسلے میں نشاط چوک مینگورہ میں جاں بحق شعیب اور اکرام ساکنان لیبر کالونی پانڑ کے لواحقین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور لاشیں کئی گھنٹوں تک چوک میں رکھیں۔
مرحومین کے بھائی عباس خان اور ریحان نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے 8 دسمبر کو ان کے بھائیوں کو کوکارئی پولیس کے ہمراہ گرفتار کیا اور تھانہ کوکارئی سے عدالت میں پیش کیا جہاں سے دونوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ لواحقین کے مطابق بعد ازاں عدالت نے شعیب اور اکرام کو گجرانوالہ پولیس کے حوالے کر دیا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ گجرانوالہ پولیس نے بعد میں دعویٰ کیا کہ دونوں نوجوان پولیس مقابلے میں مارے گئے، تاہم اہلِ خانہ اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے ماورائے عدالت قتل قرار دے رہے ہیں۔
لواحقین نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔
واضح رہے کہ فیصل نامی ایک اور نوجوان تاحال گجرانوالہ پولیس کی حراست میں ہے۔





