سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کا مقابلہ جلسوں میں نہیں خدمت میں کریں۔
مردان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے مریم نواز کو چیلنج دیا ہے کہ وہ پشاور میں جلسہ کریں اور وہ لاہور میں جلسہ کریں گے، لیکن جلسوں سے عوام کی خدمت نہیں ہو سکتی۔ مریم نواز اگر یہاں بڑا جلسہ کریں تو پشتونوں کو کیا فائدہ ہوگا، اور اگر وزیراعلیٰ لاہور میں بڑا جلسہ کریں تو اس سے بھی پشتون عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ اگر مریم نواز کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے تو جلسوں میں نہ کریں، بلکہ جس طرح وہ پنجاب کی خدمت کر رہی ہیں، اسی طرح پختونخوا کی خدمت شروع کریں۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے ساتھ جلسوں کا نہیں بلکہ ترقی کا مقابلہ کیا جائے، پنجاب کی ترقی کی رفتار، وہاں شروع ہونے والے منصوبوں اور جاری ترقیاتی کاموں کا مقابلہ کیا جائے کیونکہ جلسوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔وزیراعلیٰ کے بھی بہت سے رشتہ دار پنجاب میں آباد ہوں گے ان سے پوچھ لیں۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے وزیراعلیٰ نے اسلام آباد پر دو بار چڑھائی کی پھر بھاگ آئے، لوگوں کو لے جایا گیا اور خود بھاگ آئے۔ اس کے بعد پشتونوں کے ساتھ انتظامیہ کا جو سلوک ہوا، وہ سب کے سامنے ہے، ہر پشتون کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اب بھی وہی حال ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لوگوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے اور افغان باشندوں کے نام پر یہاں کے پشتونوں سے بھی وصولیاں ہو رہی ہیں اور انہیں تنگ کیا جا رہا ہے۔
امیر حیدر ہوتی نے مزید کہا کہ پھر ہمارا وزیراعلیٰ جاتا ہے اور جنگ جنگ کے نعرے بھی لگاتا ہے، لیکن اس سے ہمیں کیا خیر ملے گا۔
سابق وزیراعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ کیا جنگ سے خدمت ہو سکتی ہے اور کیا جنگ سے حق جیتا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صوبے کا نام این ڈبلیو ایف پی تھا، ہم نے پختونخوا کا نام جنگ سے نہیں بلکہ مذاکرات سے جیتا۔ این ایف سی ایوارڈ میں پختونخوا کا حصہ بڑھایا گیا، کیا ہم نے پنجاب اور سندھ کے ساتھ جنگ کی تھی یا ان کے وزرائے اعلیٰ سے مذاکرات کیے تھے۔
امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ ہم نے جنگ نہیں کی، سیاسی انداز اپنایا، مذاکرات کیے اور پشتونوں کا حق بڑھایا اور ان سے منوایا۔





