ڈی جی آئی ایس پی آر کی جامعہ گوادر آمد: نوجوانوں کے ساتھ مکالمے اور اعتماد کے نئے باب کا آغاز

دہشتگردی کے خلاف جنگ بزور طاقت جیتیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہر صورت جیتنی ہے اور یہ جنگ بزورِ طاقت لڑی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد پوری قوم کی جنگ ہے اور ریاست اس حوالے سے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

راولپنڈی میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس بریفنگ کا مقصد سال 2025 میں دہشتگردی کے خلاف کیے گئے اقدامات کا جامع احاطہ پیش کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال ثابت ہوا، جبکہ 2025 میں انسداد دہشتگردی کارروائیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق، 2025 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، یعنی اوسطاً روزانہ 206 آپریشنز انجام دیے گئے۔ ان میں سے 14 ہزار 658 آپریشنز خیبرپختونخوا، 58 ہزار 778 بلوچستان اور 1 ہزار 739 ملک کے دیگر حصوں میں کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں دہشتگردی کے 5 ہزار 397 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 3 ہزار 811 واقعات صرف خیبرپختونخوا میں پیش آئے۔ بلوچستان میں 1 ہزار 557 جبکہ باقی ملک میں 29 واقعات رپورٹ ہوئے۔ سال 2025 کے دوران 2 ہزار 597 دہشتگرد مارے گئے

انہوں نے اس سوال پر بھی روشنی ڈالی کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات زیادہ کیوں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں دہشتگردوں کو موافق ماحول دستیاب رہا، جس کی وجہ سے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق ریاست کا دہشتگردی کے خلاف موقف بالکل واضح ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان خطے میں دہشتگردی کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2021 میں افغانستان میں تبدیلی، دوحہ معاہدہ اور اس کے بعد کے حالات نے خطے کی سیکیورٹی کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جہاں مختلف دہشتگرد تنظیموں کی پرورش کی جا رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اس پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے اور گزشتہ دو دہائیوں سے جاری یہ جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے لڑنا نہ صرف ضروری بلکہ جائز بھی ہوتا ہے، اور پاکستان دہشتگردی کے خلاف اس جنگ کو ہر حال میں جیتے گا۔

Scroll to Top