افغان بارڈر بند کرنے سے دہشتگردی میں نمایاں کمی ہوئی ، ترجمان پاک فوج

افغان بارڈر بند کرنے سے دہشتگردی میں نمایاں کمی ہوئی ، ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ افغان بارڈر بند کرنے سے دہشتگردی میں نمایاں کمی، پوری قوم کی جنگ ہے۔

ترجمان پاک فوج اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے گزشتہ سال دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ دو دہائیوں سے جاری ہے اور یہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انسداد دہشتگردی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ افغان بارڈر بند کرنے سے دہشتگردی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ سال ملک بھر میں سکیورٹی فورسز نے 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں سے 14,658 آپریشنز خیبرپختونخوا اور 58,778 بلوچستان میں ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشتگردی کے کل واقعات 3,811 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، جبکہ ملک بھر میں 27 خودکش حملے ہوئے جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں ہوئے، اور دو حملے خواتین نے کیے۔ دہشتگرد کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اور شہریوں کی شہادتیں 1,235 ہوئیں۔ اس دوران 2,597 دہشتگرد مارے گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے خوارج اور فتنہ الہندوستان کے تعلقات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر پاکستان یا بلوچستان سے تعلق نہیں رکھتے اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر پڑ رہا ہے۔ حالیہ معلومات کے مطابق، شام سے تقریباً 2,500 دہشتگرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، جن میں ایک بھی پاکستانی نہیں، اور یہ خطے کے لیے سنجیدہ خطرہ ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کی سرپرستی میں دہشتگرد گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، جو علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان سے مذاکرات کیے جائیں، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دہشتگرد خیبرپختونخوا میں حملے کر رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال وار اکانومی پر مبنی ہے، جو پورے خطے میں دہشتگردی پھیلا رہی ہے، اور یہ دہشتگرد گروہ نئے سپانسرز تلاش کر رہے ہیں

انہوں نے زور دیا کہ ریاست اور عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ذریعے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے غیر متزلزل اقدامات کیے جا رہے ہیں اور پاکستان دہشتگردی کے خلاف اپنی جنگ میں پرعزم ہے۔

Scroll to Top