محمد اعجاز آفریدی
خیبرپختونخوا حکومت نے رواں مالی سال 2025-26 ءکے نظر ثانی بجٹ یعنی ری وائزڈ بجٹ کے لئے تمام صوبائی محکموں سے اخراجات کے تفصیلات طلب کرلئے ہیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ غیر ضروری اخراجات، اضافی مطالبات اور بغیر اجازت مالی ذمہ داریوں کو نظرثانی شدہ تخمینوں میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، تمام انتظامی سیکرٹریز،رجسٹرار پشاو رہائی کورٹ اورسیکرٹری صوبائی محتسب کے نام جاری ہونے والے مراسلے میں صوبائی متعلقہ ذمہ داروں تفصیلی ہدایات جاری کردی ہے اور کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینوں کی تیاری کا باقاعدہ عمل شروع کر دیا ہے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری سرکاری مراسلے کے مطابق تمام صوبائی محکموں، منسلک اداروں اور ذیلی دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے موجودہ اخراجات، واجبات اور مالی ضروریات کی مکمل تفصیلات مقررہ شیڈول کے تحت پیش کریں۔محکمہ خزانہ کے مطابق نظرثانی شدہ بجٹ میں صرف وہی اخراجات شامل کیے جائیں گے جو حکومتی قواعد کے عین مطابق ہو۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر ضروری اخراجات، اضافی مطالبات اور بغیر اجازت مالی ذمہ داریوں کو نظرثانی شدہ تخمینوں میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام مالی تفصیلات مستند ریکارڈ اور دستاویزی ثبوت کے ساتھ فراہم کریں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے
دستاویز کے مطابق نظرثانی شدہ تخمینوں میں تنخواہوں، مالی امداد، گاڑیوں کے اخراجات، پیٹرول و لبریکنٹس، یوٹیلٹی بلز سمیت دیگر مدوں کی علیحدہ علیحدہ تفصیلات طلب کی گئی ہیں، اسی طرح سرکاری رہائش کی عدم دستیابی کی صورت میں کرائے کے مکان سے متعلق این او سی، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور دیگر متعلقہ سرٹیفکیٹس فراہم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔محکمہ
خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ہر قسم کی مالی ادائیگی صرف قواعد و ضوابط کے تحت قابل قبول ہوگی، جبکہ بغیر اجازت یا قواعد سے ہٹ کر کیے گئے اخراجات کی ذمہ داری متعلقہ دفتر یا افسر پر عائد ہوگی۔




