پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے عوام کو جعلی کالز اور یو اے این نمبرز کے ذریعے ہونے والے فراڈ سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ ایک آگاہی ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ جعلساز مختلف سرکاری اداروں جیسے پی ٹی اے، ایف آئی اے اور بینکوں کی نقالی کرتے ہوئے صارفین سے ذاتی اور مالی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ فون کال یا پیغام کے ذریعے صارفین سے او ٹی پی، پن کوڈ، شناختی کارڈ نمبر یا بایومیٹرک معلومات طلب نہیں کرتا۔
پی ٹی اے نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی کال یا پیغام پر فوری ردِعمل دینے کے بجائے صرف مستند اور سرکاری ذرائع سے تصدیق کی جائے۔
پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو چوکنا رہنے اور مشکوک سرگرمیوں کی صورت میں متعلقہ اداروں کو آگاہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ کی عوام اب پیپلز پارٹی کو مزید نہیں دیکھنا چاہتی ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پی ٹی اے صارفین کو اپنی سمز اور ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق آگاہ کر چکا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق کسی دوسرے فرد کے نام پر رجسٹرڈ سم کا استعمال قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
پی ٹی اے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سم یا موبائل کنکشن کے کسی بھی غلط استعمال کی مکمل ذمہ داری رجسٹرڈ صارف پر عائد ہوگی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرڈ صارف اپنی سم یا ڈیوائس کے ذریعے کی جانے والی تمام کالز، پیغامات اور ڈیٹا استعمال کا خود جوابدہ ہوگا۔
اتھارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام متعلقہ قوانین اور ضوابط پر عمل کریں، بصورتِ دیگر خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔





