اسلام آباد: درآمد شدہ موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کے معاملے میں ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے، کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فوری ریلیف کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت آئی ٹی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے درآمد شدہ موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کی درخواست کی حمایت کی تھی، تاکہ فائیو جی موبائل فونز کی دستیابی میں آسانی ہو۔
تاہم فائیو جی سپیکٹرم نیلامی کی پالیسی ڈائریکٹو میں بھی موبائل فون ٹیکس سے متعلق کوئی واضح یقین دہانی شامل نہیں کی گئی۔
ٹیلی کام آپریٹرز کا کہنا ہے کہ فائیو جی فونز کی کمی کی وجہ سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے، اور ٹیکس میں کمی سے مارکیٹ میں طلب کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم ایف بی آر نے موقف اختیار کیا کہ فوری ٹیکس میں کمی سے مجموعی ٹیکس وصولی کے اہداف متاثر ہوں گے، اس لیے وہ موجودہ بجٹ کے دائرہ کار میں کسی تبدیلی کے حق میں نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اساتذہ کے لیے خوشخبری: خیبرپختونخوا میں ای ٹرانسفر کا باضابطہ آغاز
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایف بی آر آئندہ بجٹ میں موبائل فون ٹیکس پر نظرثانی کے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے اب بھی ٹیلی کام سیکٹر کی مشکلات کے حل کے لیے متبادل تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔
اس صورتحال سے ٹیلی کام آپریٹرز اور صارفین دونوں متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ درآمد شدہ موبائل فونز پر موجودہ ٹیکس شرح مارکیٹ میں فائیو جی فونز کی دستیابی اور قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔





