بی ایل اے کاخاران شہر پر قبضے کا دعویٰ بے بنیاد، بازار میں حالات معمول کے مطابق

سوشل میڈیا پر بھارتی حمایت یافتہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کی جانب سے خاران شہر پر قبضے کے دعوے غلط ثابت ہو گئے ہیں۔

زمینی حقائق کے مطابق خاران بازار میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے، دکانیں کھلی ہیں اور شہری بلا خوف و خطر اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

بی ایل اے کے دہشت گردوں نے خاران بازار میں داخل ہو کر ویڈیوز بنا کر شہر پر قبضے کا تاثر دینے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے۔

اس دوران 8دہشت گرد مارے جانے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسزکی کارروائیاں،13دہشت گرد ہلاک

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا مقصد بازار میں موجود بینکوں کو لوٹنا تھا مگر فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی شروع کیا گیا تاکہ کسی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

شہریوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام ریاست اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق دہشت گرد محض پروپیگنڈا کے لیے آئے تھے اور کارروائی کے بعد دم دبا کر فرار ہو گئے۔

حکام کے مطابق خاران شہر مکمل طور پر سیکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے اور بی ایل اے کے قبضے سے متعلق دعوے محض جھوٹ اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا ہیں۔

Scroll to Top