اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی مندوب نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے اجلاس کو سرکس قرار دے دیا۔
روسی مندوب کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس عالمی امن کے لیے بلایا جانا چاہیے تھا نہ کہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے۔
روسی مندوب نے کہا کہ بیرونی قوتیں ایران میں موجودہ حالات کو جان بوجھ کر ہوا دے رہی ہیں، جو خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہے۔
روسی مندوب نے کہا کہ شہریوں اور املاک کا تحفظ ایرانی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاہم امریکا کی جانب سے ایرانی عوام کو اداروں پر قبضہ کرنے جیسے بیانات کسی بھی ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر اور حکومت کی حمایت میں بڑے پیمانے پر عوام سڑکوں پر نکلے، جبکہ کسی بھی امریکی کارروائی سے خطہ مزید سنگین بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو نے ایران کے جوابی حملے سے ڈر کر امریکی حملہ رکوایا، امریکی اخبار
اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ امریکا ایران کے بہادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں تشدد اور جبر عالمی امن پر اثرات مرتب کرتا ہے اور ایران نے حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کی فنڈنگ کے ذریعے مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔
امریکی مندوب نے مزید کہا کہ ایران میں سر نہ ڈھانپنے پر خاتون کو قتل کر دیا گیا، حکومت کا طرز عمل مذاکرات کے برعکس ہے، اور صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام کی حمایت جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔





