یورپی یونین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش اور یورپی مصنوعات پر ٹیرف بڑھانے کی دھمکیوں کے بعد امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ گزشتہ سال طے پایا تھا، جس کے تحت امریکی ٹیرف زیادہ تر یورپی مصنوعات پر 30 فیصد کی بجائے 15 فیصد مقرر کیے گئے تھے، جبکہ یورپ نے امریکی سرمایہ کاری اور برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
تاہم امریکی صدر کی طرف سے گرین لینڈ کے معاملے پر دھمکی آمیز رویے کے بعد یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ امریکی دھمکیوں سے یورپی یونین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت خطرے میں پڑ چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب معمول کے تعلقات ممکن نہیں رہے، اور ہمارے پاس معاہدہ معطل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
ماہرین کے مطابق معاہدہ معطل ہونے سے امریکی اور یورپی کمپنیوں کے درمیان تجارتی لین دین متاثر ہو سکتا ہے، اور اس کے اثرات عالمی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
تاہم یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے اقتصادی مفادات اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، اور مستقبل میں دونوں جانب سے مذاکرات کے ذریعے معاہدے کی بحالی یا نئے تجارتی فریم ورک کے قیام کے امکانات زیر غور رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ نے گرین لینڈ معاملے پر یورپ پر ٹیرف کی دھمکی واپس لے لی
جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حوالے سے یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی اپنی دھمکی سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ایک انتہائی مثبت ملاقات ہوئی ہے، جس کے بعد گرین لینڈ کے حوالے سے مستقبل کے ممکنہ معاہدے کا فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ امریکا اور تمام نیٹو ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس پیش رفت کے بعد یکم فروری سے یورپ پر نافذ کیے جانے والے ٹیرف عائد نہیں کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور دیگر حکام مذاکرات کی ذمہ داری سنبھالیں گے تاکہ گرین لینڈ کے معاملے پر ایک جامع اور مؤثر معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔





