پاکستان تحریکِ انصاف(پی ٹی آئی )کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر خارجہ پالیسی کے فیصلوں پر بحث چھیڑ دی ہے لیکن حقیقت کیا ہے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
پی ٹی آئی نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے “بورڈ آف پیس” میں خفیہ شمولیت اختیار کی مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور خارجہ پالیسی کا اختیار آئین کے تحت حکومت کے پاس ہے۔ ہر عالمی فورم میں شمولیت کے لیے عوامی ریفرنڈم یا منظوری ضروری نہیں ہوتی اور ماضی میں خودپی ٹی آئی کی حکومت نے بھی ایسے فیصلے بغیر عوامی بحث کے کیے۔
پارٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موجودہ پارلیمنٹ غیر قانونی اور جعلی ہے جبکہ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ پارلیمنٹ آئینی طور پر قائم ہے اور ملکی نظام کے مطابق کام کر رہی ہے۔ کسی عدالت نے اسے غیر آئینی قرار نہیں دیااور سیاسی ناراضگی ریاستی اداروں کو غیر قانونی نہیں بنا سکتی۔
پی ٹی آئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کو اس فورم میں شمولیت کے فیصلے پر پارلیمنٹ میں بحث کرنی چاہیے تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی بین الاقوامی معاہدہ نہیں بلکہ ایک سفارتی فورم ہے اور ایسے فیصلے عام طور پر ایگزیکٹو سطح پر کیے جاتے ہیں۔ بحث نہ ہونا فیصلے کو غیر آئینی نہیں بناتا۔
ایک اور دعویٰ یہ کیا گیا کہ “بورڈ آف پیس” اقوام متحدہ کے خلاف ہے، تاہم یہ فورم اقوام متحدہ کا متبادل نہیں ہے۔ پاکستان بدستور اقوام متحدہ کے نظام کا حصہ ہے اور یہ پلیٹ فارم صرف اضافی سفارتی رابطوں کے لیے ہے۔ PTI نے یہ بھی کہا کہ صرف ایک شخصیت قومی اتفاق رائے کی نمائندگی کرتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاست اداروں سے چلتی ہے، نہ کہ فرد واحد کی مرضی سے۔
مزید یہ کہ پارٹی نے فلسطین کے مؤقف کے حوالے سے تشویش ظاہر کی، لیکن پاکستان کا موقف واضح اور غیر متبدل ہے۔ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کے حق میں ہے، اور دنیا کے دیگر بڑے مسلم ممالک بھی اس فورم میں شامل ہیں، جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شمولیت اصولی مؤقف سے دستبرداری نہیں ہے۔
پی ٹی آئی نے خارجہ پالیسی پر ریفرنڈم کی ضرورت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صرف وہی ملک وقار اور امن کی علمبردار ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کسی ملک میں خارجہ پالیسی پر ریفرنڈم نہیں ہوتا۔ پاکستان کا وقار متوازن اور فعال سفارتکاری سے قائم رہتا ہے اور ریاستی فیصلے سیاسی نعروں سے بالاتر ہوتے ہیں۔





