سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور اے این پی کے مرکزی رہنماامیر حیدرخان ہوتی نے چارسدہ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پختون قوم کے حقوق اور ثقافت کے تحفظ کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھیں گے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور اے این پی کے مرکزی رہنما امیر حیدرخان ہوتی نے پارٹی کے حوالے سے ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اے این پی کو غیر مقبول کرنے کی کوشش کر رہے تھے، انہیں آج اس جلسے کے ذریعے جواب مل چکا ہے۔
حیدرخان ہوتی نے تسلیم کیا کہ پارٹی کے بعض انتظامی امور جیسے فارم 47 مکمل نہیں ہیں، تاہم اس کے باوجود اسمبلی کے اندر اور باہر پختون قوم کی آواز بلند کی جائے گی۔ انہوں نے کہا، “ہم پختون قوم کے حقوق کے تحفظ اور شعور کی بحالی کے لیے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
صوبائی حکومت پر کڑی تنقیدسابق وزیر اعلیٰ نے موجودہ صوبائی حکومت پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارے وزیراعلیٰ تین مہینے سے پنجاب کے ایک ایس ایچ او کے معاملے کا جواب نہیں دے پا رہے، جبکہ ہماری حکومت نے صوبے میں یونیورسٹیاں قائم کیں، لیکن موجودہ حکومت ان کی زمینیں فروخت کر رہی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “آج صوبے کے اسپتالوں میں مریضوں کے لیے بیڈز موجود نہیں، اور 13 سال پہلے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔”
ولی خان اور باچا خان کی برسی پر عہدحیدرخان ہوتی نے ولی خان کی 20 ویں اور باچا خان بابا کی 38 ویں برسی کے موقع پر عوام سے وعدہ کیا کہ اے این پی پختون قوم سے چھینا گیا شعور واپس دلانے اور امن قائم کرنے کے لیے سرگرم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کریں گے اور پختون قوم کے حقوق اور ثقافت کو مضبوط بنائیں گے۔”
عوام سے اپیل حیدرخان ہوتی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اے این پی کے ساتھ کھڑے رہیں تاکہ صوبے میں ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہوں، عوامی سہولیات میں بہتری آئے، اور پختون ثقافت اور شناخت کو مضبوطی ملے۔





