کوہستان کرپشن اسکینڈل میں ایک اہم ملزم بیرون ملک فرار ہوگیا ہے، جس نے کیس میں سسپینس اور سوالات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق فرار ہونے والے ملزم کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک اس اسکینڈل میں مرکزی ملزم قیصر اقبال سمیت 36 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ اسکینڈل میں ملوث 6 دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ نیب کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے 4 سے زیادہ نے پلی بارگین کی درخواستیں بھی جمع کرائی ہیں، اور 36 ملزمان کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ کرپشن اسکینڈل 40 ارب روپے کے قومی خزانے کی لوٹ مار سے متعلق ہے، جو تحریک انصاف کے دورِ حکومت کے دوران 2019 سے دسمبر 2024 کے درمیان سامنے آیا۔ اس اسکینڈل میں سرکاری افسران، ٹھیکیداروں اور بینک حکام کی ملی بھگت شامل تھی، جنہوں نے جعلی کمپنیوں اور جعلی دستاویزات کے ذریعے اربوں روپے کے فنڈز نکلوائے۔
نیب ذرائع نے بتایا کہ فرار ہونے والے ملزم کی ملک بدری نے کیس کی سنگینی اور قومی خزانے کے ساتھ ہونے والے نقصان کی حقیقت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ انٹرپول کے ذریعے ملزم کی فوری واپسی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
اس کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد عوام اور سیاسی حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ قانون سے بچنے کی کسی بھی کوشش کو ہر صورت ناکام بنایا جائے۔ کوہستان کرپشن اسکینڈل اب بھی تحقیقات کے مرحلے میں ہے اور نیب نے اعلان کیا ہے کہ تمام ملوث افراد کے خلاف کارروائی بلا امتیاز جاری رہے گی۔





