بزنس ٹائیکون ملک ریاض کا مال آف اسلام آباد بحقِ سرکار ضبط، احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا ۔
احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کی گئی شکایت پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض، بینا ریاض، احمد ریاض سمیت 6 افراد کے وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں، جبکہ عدالتی حکم کے تحت مال آف اسلام آباد کو بحقِ سرکار ضبط کر لیا گیا ہے۔
عدالت میں نیب کے پراسیکیوٹرز منظور شاہ اور حنا اشرف نے تفتیشی افسر کی جانب سے تیار کی گئی تفصیلی رپورٹ پیش کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کے بعد شواہد اور ریکارڈ کی روشنی میں باقاعدہ ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔ نیب کے تفتیشی افسر محمد رمضان نے رپورٹ میں بتایا کہ مالی بے ضابطگیوں اور قومی خزانے کو مبینہ نقصان سے متعلق ٹھوس شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران تین ملزمان کو 5،5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا، جبکہ دیگر ملزمان کے خلاف جاری وارنٹِ گرفتاری پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالتی احکامات کے مطابق مال آف اسلام آباد کو سرکاری تحویل میں لے کر بحقِ سرکار ضبط کر لیا گیا ہے، جبکہ اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی متعلقہ اداروں کو ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ عدالتی حکم پر فوری اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
نیب حکام کے مطابق یہ کارروائی مالی بدعنوانی اور قومی خزانے کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کے الزامات کے تحت کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی آئندہ سماعت میں ملزمان کی عدالت میں پیشی، ضمانتوں اور مزید قانونی کارروائی سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ قانون کے مطابق تمام فریقین کو صفائی کا پورا حق دیا جائے گا، تاہم عدالتی احکامات پر عمل درآمد میں کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس اہم پیش رفت کے بعد ملک ریاض اور ان سے منسلک منصوبوں سے متعلق قانونی کارروائی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف ردِعمل بھی سامنے آ رہے ہیں۔





