مرکزی رہنما پاکستان تحریک انصاف و سیکرٹری جنرل تحریک تحفظ آئین پاکستان اسد قیصر نےکہاہے کہ آج ڈان اخبار میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے خبر شائع ہوئی ہے کہ انہیں علاج کے لیے پمز ہسپتال اسلام آباد لے جایا گیا تھا۔ ہمیں عمران خان کی صحت کے بارے میں گہری تشویش ہے۔
چھوٹا لاہور صوابی میں پارٹی کے کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جلد از جلد عمران خان سے ان کے خاندان اور پارٹی قیادت کی ملاقات کرائی جائے۔
اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں اس وقت جنگل کا قانون رائج ہے، ملک بنانا ریپبلک بن چکا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم کسی قانون اور عدالت کو نہیں مانتے۔عدالتوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔ کیا کبھی سنا ہے کہ ججز شکایات کر رہے ہوں اور ان کی شکایات کو کسی نے نہ سنا ہو۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت نے غزہ بورڈ آف پیس پر قوم اور پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا، اس پر ہمیں تحفظات ہیں۔اس وقت مزاحمت کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ باقی نہیں رہا، ہمیں اس ظلم اور فسطائیت کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پُرامن مزاحمت کرنی ہے کیونکہ دنیا بھر میں جب بھی پُرامن مزاحمت ہوئی ہے وہ کامیاب ہوئی ہے، جبکہ پُرتشدد تحریک کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ ہم ملک میں آئین کی بالادستی، سولین سپریمیسی اور آزاد عدلیہ کے لیے جدوجہد کریں گے۔
انہوں نےمزیدکہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے عدلیہ کو ختم کر دیا ہے، اس کے خلاف جدوجہد کریں گے۔ ہم اس ملک میں حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں۔ عمران خان اس قوم کے لیے جیل میں ہیں، وہ آج فیصلہ کریں تو 24 گھنٹوں کے اندر جیل سے رہا ہو سکتے ہیں۔
رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ عمران خان نے وزیر اعظم سے بڑھ کر رتبہ اور مقام حاصل کر لیا ہے۔ 8 فروری کو ہم ایک بار پھر ثابت کریں گے کہ صوابی پاکستان تحریک انصاف کا گڑھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بھی ہمیں حکومت نہیں کرنے دی جا رہی۔ہمیں نہ این ایف سی میں پورا حصہ دیا جاتا ہے نہ خالص پانی سے بننے والی بجلی کا منافع دیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو اداروں سے لڑانے کی سازش کر رہی ہے۔
انہوں نے مذیدکہا کہ منتخب وزیر اعلیٰ کے خلاف من گھڑت پروپیگنڈا کر کے جعلی بیانیہ بنایا جا رہا ہے،ہم ان تمام اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔





