اسلام آباد: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک جہاں جہاں دہشتگرد موجود ہیں، وہاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن یقینی بنایا جائے گا۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ تیراہ کے حوالے سے گزشتہ دنوں لفظی جنگ جاری رہی، تاہم اس علاقے میں طویل عرصے سے عسکریت پسند موجود تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ہر صورت عمل میں لائی جائے گی، چاہے کسی کو یہ فیصلہ پسند آئے یا نہ آئے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے تیراہ میں برفباری کے دوران ہونے والی نقل مکانی پر بھی بات کی اور کہا کہ یہ ایک معمول کی صورتحال ہے۔ سردیوں کے موسم میں لوگ ہر سال نقل مکانی کرتے ہیں اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کے پاس مسائل ہیں تو انہیں وفاق کے ساتھ حل کرنا چاہیے، کیونکہ گالم گلوچ سے فنڈز نہیں ملتے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اور وفاقی حکام کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کے سبب علاقے کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔
گورنر نے صوبائی حکومت کے حالیہ ایجنڈے پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ موجودہ انتظامیہ کا بنیادی مقصد صرف قیدی کو کس طرح آزاد کرانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر خیبرپختونخوا کی اہم شخصیت سے ملاقات، وادی تیراہ کے بارے میں بڑی خبر سامنے آ گئی
انہوں نے واضح کیا کہ اڈیالہ جیل کا قیدی اپنی سزا پوری کرنے کے بعد ہی آزاد ہوگا، اور اگر کسی قیدی کو اسپتال لایا جاتا ہے تو اس کے علاج میں کوئی حرج نہیں، تاہم سزا پوری ہونے کے بغیر رہائی ممکن نہیں۔
فیصل کریم کنڈی کے اس خطاب سے واضح ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے حوالے سے وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔





