شہباز شریف اور سہیل آفریدی کی پہلی باضابطہ ملاقات، وزیراعظم نے مسائل حل کرنے کا اہم عندیہ دیدیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی وزیراعظم شہباز شریف سے پہلی باضابطہ ملاقات، صوبائی مسائل پر اہم تبادلہ خیال

اسلام آباد میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور وزیراعظم شہباز شریف کی پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیر خزانہ مزمل اسلم اور دیگر وفود کی سطح پر شامل حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبائی اور قومی اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ صوبے کے اہم منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنانا ناگزیر ہے، اور کہا کہ “4 ارب نہیں بلکہ 5,300 ارب روپے کا معاملہ سامنے آنا چاہیے۔” انہوں نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ اس ملاقات میں کسی سیاسی معاملے پر بات نہیں ہوئی۔

سہیل آفریدی نے دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ “دہشتگردی کا کوئی مذہب، ملک یا صوبہ نہیں ہوتا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس ابھی جاری ہیں اور مزید اجلاس بھی ہوں گے، فیصلے طے ہونے کے بعد عوام کے سامنے آئیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مسائل پر بات کر کے انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا پر صوبائی حکومت نے اب تک 26 ارب روپے کے منصوبے مکمل کر لیے ہیں۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے اہم مسائل، وفاقی تعاون اور صوبے کی ترقیاتی ترجیحات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سہیل آفریدی نے مزید بتایا کہ قبائلی اضلاع کے رکے ہوئے 2,600 ارب روپے میں سے وزیراعظم نے 26 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیراہ، کرم اور باجوڑ کے وہ لوگ جو قربانیاں دے رہے ہیں، ان کے لیے 4 ارب روپے کی رقم کافی نہیں ہے، اور اس کو عوام کی قربانی سے جوڑنا مناسب نہیں ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان یا ان کی بہنوں سے متعلق کسی بھی معاملے پر بات نہیں ہوئی اور یہ ملاقات مکمل طور پر صوبائی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ دہشتگرد کا نہ کوئی صوبہ اور نہ ہی کوئی ملک ہوتا ہے، اور عید کے بعد دوبارہ ملاقات کے دوران دہشتگردی کے معاملات پر تفصیلی بات ہوگی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات نہ صرف صوبے اور وفاق کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے اہم ہے بلکہ صوبے کے لیے مالی وسائل اور ترقیاتی منصوبوں کی سمت کا تعین کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

Scroll to Top