سیاسی برف پگھلنے میں وقت لگے گا، فوری ڈیل کا کوئی امکان نہیں، فیصل واوڈا

اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ سیاسی تنقید ان پر کوئی اثر نہیں ڈالتی اور وہ اپنی رائے کھل کر دینے پر یقین رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست آسان راستہ نہیں بلکہ مشکلات سے بھرپور میدان ہے، اور انہوں نے اپنے سیاسی سفر میں مختلف چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ ملک میں سزا و جزا کا مؤثر نظام ہونا چاہیے تاکہ قانون سب کے لیے برابر ہو اور ہر شہری کو انصاف مل سکے۔ ان کے مطابق قانون کی بالادستی ہی سیاسی استحکام کی بنیاد ہے۔

28ویں ترمیم سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے باعث سیاسی سرگرمیاں نسبتاً سست ہیں اور عید کے بعد ہی سیاسی ماحول میں واضح تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

سینیٹر واوڈا نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی بڑے سیاسی تبادلے یا مفاہمت کی گنجائش نظر نہیں آ رہی۔

انہوں نے کہا کہ نہ تو پی ٹی آئی کسی کو کچھ دینے کی پوزیشن میں ہے اور نہ ہی دیگر جماعتیں اسے کوئی رعایت دینے کو تیار ہیں۔ ان کے بقول حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان نہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی نرمی دکھائی دے رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بنی گالہ میں بھی کسی سیاسی تبدیلی یا منتقلی کی اطلاعات درست نہیں اور قانونی طور پر بھی فی الحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

تاہم انہوں نے اسے مثبت قرار دیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور دیگر متعلقہ حکام کے درمیان انسداد دہشت گردی کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : احتجاج کے لیے کنٹینر تیار، کون سے شہر کی جانب مڑ سکتا ہے؟ شفیع جان نے بتا دیا

فیصل واوڈا نے سہیل آفریدی کی مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا خوش آئند ہے۔

ان کے مطابق سیاسی کشیدگی میں کمی بتدریج آئے گی اور معاملات آہستہ آہستہ بہتری کی جانب بڑھیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف نے بعض معاملات میں لچک دکھانا شروع کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اس وقت ایک صفحے پر ہیں۔ ان کے بقول سیاست میں جو عدم استحکام کا شکار ہوگا، وہی نقصان اٹھائے گا۔

Scroll to Top