اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پرامن احتجاج کے لیے آئیں گے، تب بانی تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام کے ساتھ گفتگو میں رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر باجوہ سے کہا تھا کہ جو مقدمہ ان کے خلاف بنایا گیا ہے، اس کا حساب رب کرے گا، لیکن جنرل باجوہ نے وضاحت کی کہ یہ مقدمہ اُن کا نہیں تھا۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق اس موقع پر اُن کے اور باجوہ کے درمیان تلخی بھی ہوئی تھی۔
رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ حالیہ خبریں کہ جنرل باجوہ گر گئے ہیں، مکمل نہیں ہیں۔ اُن کے مطابق واش روم میں گرنے سے اتنی شدید چوٹ نہیں لگ سکتی جتنی رپورٹ کی گئی ہے۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ سلمان صفدر سپریم کورٹ کے فرینڈ آف کورٹ کی حیثیت سے جیل ملاقات کے لیے گئے تھے۔ یہ اعتماد سپریم کورٹ کا ہے، جس کا مقصد عدالت کی کارروائی میں معاونت فراہم کرنا تھا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت کا موقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو تمام سہولیات فراہم ہیں اور محمود اچکزئی نے بانی سے ملاقات کے لیے ابھی تک عدالت سے رجوع نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں : محمود اچکزئی کے الزامات من گھڑت، فوج سیاست سے الگ، سیکیورٹی ذرائع نے واضح کر دیا
8 فروری کی کال پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اور عوام اب اس طرح کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی جب پرامن احتجاج کریں گے، تب ملاقات ممکن ہو گی۔ فی الحال ملاقات کی شرط یہ ہے کہ لانگ مارچ یا کسی غیر ضروری مہم جوئی کا سلسلہ نہ ہو۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق جب احتجاج کے طریقے پرامن ہوں گے اور سیاسی مہم جوئی ختم ہو جائے گی، تب ملاقات بھی ممکن ہوگی۔





